✍🏻شاہد رضا رضوی
اے کاش کہ میں دیکھوں طیبہ کی بہاریں
سرکار کا گنبد اور مسجد نبوی کی مناریں
پاتے ہیں جہاں بھیک شہنشاہ زمانہ
دربار پیمبر میں وہ منگتوں کی قطاریں
آتی ہے وہاں چار سو فردوس کی خوشبو
طیبہ کی جو گلیوں سے اڑتی ہیں غباریں
اے کاش مدینے میں افطار کروں میں
کھاؤں کھجور پیوں زمزم کی وہ دھاریں
خاک در رسول کو پیشانی پہ مل لوں
اور چوموں اس شہر مدینہ کی دیواریں
اس پاک در حبیب پہ دل اپنا بچھا دوں
اے کاش میرے آقا مجھے ایک بار بلاویں
معراج مقدر کا میرے ہو جائے اسی دن
جس دن میرے آقا مجھے طیبہ میں بلاویں
ہم جارہے ہیں طيبہ آچل تو بھی شاہد
منادی میرے سرکار کا لگائے یہ آوازیں