گوشہ خواتین

والدین اپنے بچوں کو ہار سے مقابلہ کرنا سکھائیں

تحریر : نازیہ اقبال فلاحی
معلمہ: معہد حفصہ للبنات زھراء باغ بسمتیہ ارریہ ، بہار

دنیا کے ہر ماں باپ اپنے بچوں کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ بےشک یہ ان کا حق ہے ، مگر ساتھ ہی ساتھ بدلتے دور کے حالات بتاتے ہیں کہ ہمیں بچوں کو ہار سے مقابلہ کرنا سیکھانا ہوگا۔ کیونکہ ہر بار جیت مقدر نہیں ہوتی ہے، یہ دیکھا گیا ہے کہ ایسے بچے جو ہار ہنس کر قبول کر لیتے ہیں وہ پھر زندگی کی کسی دوڑ میں پیچھے نہیں رہتے ہیں، اسی طرح جو بچے یہ ہار قبول نہیں کر پاتے ہیں وہ اکثر چھوٹی سی ناکامی کا بوجھ بھی اٹھانے کے لائق نہیں رہتے ہیں اور نتیجے میں اپنی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں ۔
آج کے حالات اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ صرف نام ، دولت اور شہرت ہی کامیابی نہیں بلکہ زندگی کے مشکلات سے لڑنا ہی اصل کامیابی ہے ، آپ چاہے کتنی ہی بڑی شخصیت کیوں نہ ہوں یہ طے ہے کہ کبھی نہ کبھی تو آپ کے بچوں کو مشکلات کا سامنا کرنا ہے ، اس لیے بچپن ہی سے مضبوط قوت ارادی ضروری ہے ، ایسے مضبوط قوت ارادی جن بچوں میں پیدا ہو جائے وہ ہار سے ڈرتے نہیں ہیں ، اگر تاریخ اٹھا کر دیکھیں گے تو کامیاب شخصیات کی کامیابی کا راز ان کا اعتماد تھا جو ان کے والدین کی دین تھی ۔ اس لیے آپ بھی بچوں کی تربیت میں ان باتوں کا خیال رکھیں ۔
بچوں کی خود اعتمادی کو بڑھائیے ، اس کے لیے والدین ہر وقت بچوں کی ہمت افزائی کریں ، اس کی چھوٹی سی کامیابی کو اہمیت دیں ، اگر وہ کم نمبر لاتا ہے تب بھی اس کی کوششوں کو سراہیں ، ہر وقت دوسرے بچوں سے مقابلہ کر کے اپنے بچے کے اعتماد کو ختم نہ کریں ، کسی اور بچے کو مثال بنا کر اس کو پیش کریں ، تاکہ آپ کا بچہ احساس کمتری کا شکار نہ ہو ، بچے کو عادت ڈالیں کہ وہ صرف بہترین کام نہ کرے بلکہ ہر کام بہترین انداز میں کرے ، اکثر دیکھا گیا ہے کہ سماجی طور پر بڑے امیر لوگ بھی تکلیف دہ زندگی گزارتے ہیں ، اور عام اور معاشی طور پر کمزور لوگ بھی زندہ دلی سے زندگی گزارتے ہیں ، اپنے بچے کو زندہ دل شخصیت کا نمونہ پیش کریں ، تو وہ ہر موڑ پر زندہ دلی سے مشکلات سے نبرد آزما ہوگا ۔
اپنے بچے کو یہ احساس ضرور دلائیں کہ وہ ایک مکمل لائق انسان ہے، یاد رکھیں آپ کا یہ احساس دلانا کہ وہ کسی کام کے لائق نہیں اسے زندگی میں مزید ناکام بنا سکتا ہے ۔
روز مرہ کی زندگی کے اچھے کرداروں کے مثبت پہلوؤں کو اپنے بچے کے سامنے اجاگر کریں ، خاص طور پر فارغ اوقات میں کسی نہ کسی تعمیری کام میں مصروف رکھیں ، کیونکہ خالی اوقات میں بچوں کے ذہن میں اکثر منفی خیالات پیدا ہوتے ہیں ۔
یہ ضروری ہے کہ چاہے جتنی بھی خراب صورتحال ہو آپ بچوں کے سامنے ہمیشہ مثبت رویہ رکھیں ، یہ اپنے آپ میں ایک بہترین تعلیم ہوگی ، بچوں کو بچپن سے ہی چھوٹی چیزوں میں خوشیاں ڈھونڈنے کی عادت ڈالیں ، خاندان کے طور پر ایک دوسرے سے احساسات کا تبادلہ کرنے کی عادت ڈالیں ۔
اوپر دی گئی تمام باتوں پر عمل کر کے اپنے بچوں کو مثبت سوچ والا ، حالات سے لڑنے والا اور مضبوط کردار کا مالک بنائیں ۔

ہما اکبر آفرین

محترمہ ہما اکبر آفرین صاحبہ گورکھ پور(یو۔پی۔) کے قدیم ترین قصبہ گولا بازار سے تعلق رکھنے والی بہترین قلم کار ہیں۔ فی الحال موصوفہ ہماری آواز کے گوشہ خواتین و اطفال میں ایڈیٹر ہیں۔ ہماری آواز

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button