نبی کریمﷺ

اللہ کے محبوب اور فاضل بریلوی کا یہ شعر

میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کےحبیب
یعنی محبوب و محب میں نہیں میرا تیرا

ازقلم: سعدیہ بتول اشرفی سباؔ

مشکل الفاظ کے معنی:
مالک:- آقا ، ملکیت والا
حبیب:- پیارا
محبوب:- پیارا، جس سے محبت کی جائے
محب:- محبت کرنے والا

مطلبِ شعر:
یا رسول اللہ ﷺ آپ مالک حقیقی اللہ تعالیٰ کے محبوب دوست ھیں اس لئے میں تو آپ کو مالک ہی کہوں گا کیوں کہ محبوب و محب میں میرا تیرا نہیں ہوتا۔

پیاری بہنو!
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کے صحابہ کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی آپﷺ کا انتظار کر رہی تھی،
کہ آپ نکلے یہاں تک کہ جب ان کے نزدیک ہوئے تو آپﷺ نے ان کی باتیں سنی جو وہ کر رہے تھے:
آپ ﷺنے سنا کہ ایک ان میں کہہ رہا تھا تعجب ہے کہ اللہ پاک نے اپنی مخلوق میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا، دوسرے نے کہا کیا یہ زیادہ عجیب بات نہیں؟کہ حضرت موسی علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا، ان میں دوسرے نے کہا کہ حضرت عیسی علیہ السلام اللہ کے کلمہ اور اس کی روح ہیں ۔
ایک نے کہا کہ حضرت آدم علیہ السلام اللہ کے صفی اور برگزیدہ ہیں۔
تب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے سامنے آئے اور سلام کیا اور فرمایا : میں نے تمہاری باتیں اور کلماتِ تعجب سنے ۔
بے شک اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا وہ اسی لائق تھے۔
اور موسی علیہ السلام کو نجی اللہ کیا وہ اسی کے لائق تھے۔
اور عیسی علیہ السلام کو روح اللہ بنایا وہ اسی کےلائق تھے۔
اور آدم علیہ السلام کو اپنا برگزیدہ نبی بنایا وہ اسی کے لائق تھے۔
خبردار ! میں حبیب اللہ ہوں ۔ یہ فخر سے نہیں کہتا اور میں ہی بروز قیامت حامل لواء الحمد ہوں میں فخر سے نہیں کہتا، میں پہلا شفاعت کرنے والا اور قبول شفاعت ہوں اس میں فخر نہیں اور میں پہلا شخص ہوں گا جو جنت کا دروازہ کھٹکھٹائے گا اللہ میرے لئیے کھولے گا پھر وہ مجھے داخل کرے گا
دراں حالانکہ میرے ساتھ فقراء و مؤمنین ہوں گے، یہ فخر نہیں ، میں اکرم الاولین و الاخرین ہوں ، یہ فخر نہیں۔ (شفا شریف)

سبحان اللہ!

محبوبِ خدا مکی مدنی سرکار کا عالم کیا ہوگا
اللہ بھی جس سے پیار کرے اس یار کا عالم کیا ہوکا

عزیز بہنو! آقاﷺ نے ارشاد فرمایا : عطیت الکنزین الاحمر و الابیض ؛؛
مجھے سرخ و سفید ساری دنیا کا مالک بنادیا گیا۔ (مشکوۃ المصابیح)

سبحان اللہ!
ایک اور مقام پر نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اوتیت مفاتیح کل شئ؛؛
مجھے ہر شئ یعنی ہر نعمت کے خزانے کی کنجیاں دی گئیں۔ (خصائص کبریٰ)

نہ صرف ساری دنیا کا بلکہ آقاﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن بھی ساری عزتیں ، ساری چابیاں اور حمد کا جھنڈا میرے ہی ہاتھ ہوگا۔ (شفا شریف ، مشکوۃ المصابیح)

سبحان اللہ سبحان اللہ ! یہ شانِ محبوبیت ہے۔

اللہ تعالیٰ نے سب کچھ اپنے محبوب ﷺ کو عطا فرمایا:
قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ٘
(پارہ ۳، آل عمران)
ترجمہ: یوں عرض کرو، اے اللہ !مُلک کے مالک! تو جسے چاہتاہے سلطنت عطا فرماتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔
شانِ نزول:
فتح مکہ کے دن آقاﷺ نے اپنی امت کو ایران و روم کی سلطنت کی بشارت دی کہ یہ مسلمانوں کے ہاتھ آئے گی ۔اس پر یہود و منافقین کو بڑا تعجب ہوا اور کہنے لگے کہ کہاں محمد مصطفی ﷺ و کہاں ایران و روم کے ملک یہ تو بڑے زبردست و محفوظ ملک ہیں اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئ اور حضور اکرمﷺ کا وہ وعدہ پورا ہوا اللہ پاک نے ان مقامات کی حکومت اپنے بندوں کو عطا فرمائ
اس آیت کریمہ کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس آیت کریمہ میں پہلے ” الملک اور دوسرے مرتبہ کے ” الملک” دونوں میں الف لام ہے دونوں معرفہ ہیں
اور یہ قائدہ ہے کہ ایک معرفہ کے بعد جب دوسرا معرفہ آتا ہے تو دوسرے معرفہ سے وہ ہی ذات مراد ہوتی ہے جو پہلے معرفہ سے مراد ہوتی ہے ۔
یعنی جس ملک کا تو مالک ہے وہ دوسرے کو دے سکتا ہے یعنی اللہ پاک اپنے فضل سے اپنے بندوں کو مالک بناتا ہے عطا فرماتا ہے۔
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں نبئ کریم ﷺ اپنے رب کی عطا سے تمام آدمیوں کے مالک ہیں۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بھی یہ ہی عقیدہ ہے
کچھ چاہئیے ہو تو بارگاہ رسالت میں حاضر ہوتے ہیں، حضور ﷺ مالک و مختار ہیں۔
ایک ہی مجلس میں دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دنیا ہی میں جنت کی بشارت عطا فرمادیں۔
جس کو جو چاہیں عطا فرمادیں اللہ پاک نے مالک و مختار بنایا ایک شخص حاضر ہوا عرض کی میں آپ پر ایمان لانا چاہتا ہوں مگر میں شراب نوشی ، بدکاری، چوری اور جھوٹ کا عادی ہوں لوگ یہ کہتے ہیں
کہ آپ ان چیزوں کو حرام کہتے ہیں میں ایک دم ان چیزوں کو چھوڑ نہیں سکتا البتہ اگر آپ اس بات پر راضی ہوجائیں کہ ان میں سے ایک برائ میں چھوڑ دوں، میں آپ پر ایمان لانے کو تیار ہوں۔ میرے مالک و مختار نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تم جھوٹ بولنا چھوڑ دو اس نے اس بات کو قبول کرلیا اور مسلمان ہوگیایہ اختیار ہے میرے مصطفی ﷺ کا، پھر جھوٹ نہ بولنے کی برکت سے تمام بری عادتیں چھوٹ گئیں نبی مختار کل ہیں جس کو جو چاہیں عطا کردیں ایسے بادشاہ ہیں ایسے مالک و مختار ہیں۔

سبحان اللہ ! جنہیں اللہ تعالیٰ نے خزانوں کی کنجیاں عطا فرمائ ہیں چاہیں تو لوگوں کو دنیا کی بادشاہی عطا فرمائیں۔
چاہیں تو آخرت میں عزت عطا فرمائیں
چاہیں تو رب سے بخشوادیں
چاہیں تو رب سے جنت دلوادیں
چاہیں تو سراقہ پر سونا حلال فرمادیں
چاہیں تو صحابی کے روزے کا فدیہ انہی کے لئے حلال فرمادیں
چاہیں تو ایک کی گواہی دو کے برابر فرمادیں
جس کو جو چاہیں عطا فرما دیں۔

میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیب
یعنی محبوب محب میں نہیں میرا تیرا