رمضان المبارک

آگیا سرچشمۂ فضلِ خدا ماہِ صیام

تحریر: محمد عادل بہرائچی
فون! 8765702110

اہلِ ایماں کے لئے ہے یہ مسرت کا پیام
آگیا سرچشمۂ فضلِ خدا ماہِ صیام

اپریل کے مہینے کی چلچلاتی دھوپ اور سخت گرمی کے ایام میں، اور گرمی بھی ایسی کہ جیسے آگ کے شعلے برس رہے ہیں، ہَوا بھی کہ جو راحت وسکون کا سامان ہوا کرتی ہے ایسی چل رہی ہے جو راحت افزا ہونے کے بجائے زبان و دہن کو خشک کررہی ہے، لوگ گھروں میں رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں، لیکن خدا کے وفا شعار بندے پروردگار کی اطاعت و فرمانبرداری اور احسان شناسی کے جذبات سے لبریز ہوکر روزہ رکھتے ہیں، پورے دن بھوک و پیاس کی شدت برداشت کرتے ہوئے خدائے دو جہان کا حکم بجالاتے ہیں، معصیت سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں، ذکر و اذکار اور تلاوت قرآن میں مشغول اور منہمک ہوجاتے، ایک طرف اپنے معاش کا انتظام بھی کرتے ہیں اور پانچ وقت بارگاہِ ایزدی میں حاضری بھی دیتے ہیں۔

روح پرور ہے یہ تسبیح و تلاوت کا سماں
کررہے ہیں سب بقدرِ ظرف اس کا اہتمام
بارگاہِ رب العزت میں سبھی ہیں سجدہ ریز
دید کے قابل ہے یہ قانونِ قدرت کا نظام

شام کے وقت جب سورج اپنی بساط لپیٹ کر شب باشی کا لبادہ اوڑھ چکا ہوتا ہے، ہر طرف تاریکی پھیل رہی ہوتی ہے تو یہ بندگانِ خدا جو دن کے تھکے ہارے ہوئے اور دن بھر بھوکے اور پیاسے رہنے کی وجہ سے زار نزار ہوتے ہیں، تھکن اور تھکاوٹ سے چور ہوتے ہیں، مؤذن کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے مسجد جا پہونچتے ہیں ، نہ آرام و راحت کی کوئی فکر انکے دامن گیر ہوتی ہے اور نہ سکون و عیش کی کوئی تلاش ان کے اندر سستی پیدا کرتی ہے، بس ہاتھ باندھ کر خدا کے سامنے جا کھڑے ہوتے ہیں، کلام الٰہی کو سنتے ہیں، نیند آرہی ہے پھر بھی سن رہے ہیں، پیروں میں درد ہورہا ہے پھر بھی سن رہے ہیں، من نہیں لگ رہا ہے پھر بھی سن رہے ہیں۔
یہی وہ لوگ جو نفع اٹھانے والے ہیں، ایسے ہی لوگوں کے بارے ارشاد باری ہے "إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات سندخلهم جنات تجري من تحتها الأنهار خالدين فيها أبدا” بےشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ہم انہیں ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی، اور فرمان نبوی ہے "من قام و صام رمضان ایمانا واحتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ "
جس شخص نے ایمان اور ثواب کی امید میں رمضان کے روزے رکھے اور تراویح پڑھی اسکے پچھلے گناہ معاف کردئے جائیں گے ۔۔۔۔
ایک ماہ کا لگاتار روزہ رکھنا، بیس رکعت تراویح اور اس میں ایک یا دو یا تین پارے سننا، روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ خدا کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہنا، اسکا کلام سننا، یہ ساری تکلیفیں کیونکر برداشت کرلی جاتی ہیں، کیا چیز انسان کو ابھارتی ہے اور نفس امارہ کو مات دیتی ہے؟؟ آخر خدا کا خوف اسکا ڈر اور ثواب کی امید ہی تو ہے، رضائے الٰہی کی فکر اور تڑپ ہی تو ہے، درحقیقت یہ نفس کا جہاد ہے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” المجاھد من جاھد نفسہ” حقیقی جہاد کرنے والا وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرے۔۔۔۔ لیکن حیف صد حیف کہ ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے جو مسلسل صبر و ثابت قدمی کے ساتھ روزے رکھتے ہیں، اور اس درمیان ہر طرح کی لغویات ، منکرات اور معصیات سے دور رہتے ہیں، زیادہ تر ایسے لوگ ملیں گے جو روزہ تو رکھتے ہیں لیکن انکا روزہ کسی کام کا نہیں ہوتا، کیونکہ دن بھر وہ کسی نہ کسی معصیت میں مبتلا رہتے ہیں، یا حرام کمائی سے افطار کرلیتے ہیں، سوائے بھوکا پیاسا رہنے کے انہیں کچھ حاصل نہیں ہوتا، اسی طرح بعض تراویح پڑھنے والے ایسے ہوتے ہیں جن کے لئے تراویح کی ذرا کی تھکن اور تکلیف ناقابل برداشت ہوتی ہے، جو امام کو قرآن نہایت تیز رفتاری کے ساتھ قرآن پڑھنے پر مجبور کرتے ہیں، اور اپنی مصنوعی بیماری اعذاری کا حیلہ کرکے قرآن کا مذاق بنواتے ہیں، ایسے لوگ ظاہر ہے اس فہرست میں شامل ہونگے جن کے بارے میں ارشاد ہے کہ کچھ لوگ قرآن پڑھتے ہیں لیکن قرآن ان کے خلاف گواہی دیگا۔
رمضان المبارک کا یہ مبارک مہینہ جس میں ہر طرف رحمتوں کا نزول ہوتا ہے، خدا کی طرف سے بندوں پر کھلے انعامات کی بارش ہوتی ہے، آخر کیوں نہیں اس مبارک ماہ سے مکمل فائدہ اٹھانے، نفع اندوز ہونے اور زیادہ سے زیادہ ذخیرہ اندوزی کی فکر کی جاتی۔۔۔؟ کیوں ایسا ہوتا ہے کہ اول روز تو اکثریت جوش و خروش کے ساتھ رمضان کا استقبال کرتی ہے، اور پھر چند روز گذرتے ہی سب کا نشہ اتر جاتا ہے۔۔۔؟ کیوں کچھ ہی دنوں بعد تراویح میں مسجدیں خالی نظر آنے لگتی ہیں اور روزہ دار خال خال ہی نظر آتے ہیں؟ کیا یہ خدا کی نعمتوں کی ناقدری اور احسان فراموشی نہیں ہے؟
یاد رکھئے جبریل کی بدعا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر آمین کہتے ہیں کہ تباہ و برباد ہوجائے وہ شخص جو رمضان المبارک کا مہینہ پائے اور اپنی بخشش نہ کروالے ۔۔۔۔۔
خدا کی ان ہزار ہا ہزار نعمتوں کا شکر یہ ہے اور ان بے شمار احسانات کی (جنکے سائے تلے ہم زندگی بسر کرتے ہیں) احسان شناسی یہ ہے کہ ہم ایمان و یقین کے ساتھ روزہ اور تراویح کی مشقتوں کو برداشت کریں، آخر تھوڑی سی تکلیف برداشت کرلینے میں کون سی جان نکل جاتی ہے؟ عقلمند آدمی وہی ہے جو تھوڑی سی تکلیف برداشت کرکے بڑا نفع حاصل کرے ۔۔۔۔۔