نظم

اشکِ توبہ

اشکِ توبہ سے ہر اک آنکھ کو دھویا جائے
دامنِ دل کو نَدامَت سے بھِگویا جائے

چشمِ ہستی پہ نہ ہو کوئ حجابِ غفلت
کرکے احساس ، ہر اک جُرم پہ رویا جائے

اِنقِلاب آئے طبیعت میں ہمیشہ کے لیے
جوشِ رمضان کو فطرت میں سَمویا جائے

مسجدِ دل میں ہوں بیدار اذاں کے نغمے
بندگی چھوڑ کے غفلت میں نہ سویا جائے

جس سے ہر سانس میں ہو یادِ خدا کی تسبیح
دل کے دھاگے میں گُہر ایسا پِرویا جائے

تاکہ اعمال میں آئے نہ رِیا کی خشکی
بحرِ اِخلاص میں ہستی کو ڈُبویا جائے

جس کے پھولوں میں تکبر کا کوئ رنگ نہ ہو
بیج ایسا ، چَمَنِ فکر میں بویا جائے

اے فریدی ! چلو مَصروفِ عبادت ہوجائیں
غفلتوں میں یوں ہی ، یہ وقت نہ کھویا جائے

ازقلم: سلمان رضا فریدی صدیقی مصباحی مسقط عمان