اہل بیت

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور آپ کا علمی مقام

ازقلم: ارم فاطمہ قادری امجدی بنت مولانا غلام جیلانی قادری
قادری نگر، سوتیہاراٹولہ، سیتامڑھی(بہار)

اسلام کی مقدس اور بابرکت خواتین جن کے علم وعبادت،زہدوتقویٰ اورپردہ و طہارت کے متعلق پڑھنےاور لکھنےسے پژمردہ دل کاصحرا لہلہا اٹھتاہے، ان کی ایک طویل فہرست ہےجن میں سے ایک مقدس اور مبارک نام محبوبہ محبوب رب العالمین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کاہےجن کی زندگی کاہرپہلو تابندہ ودرخشندہ ہےاور جن کی زندگی کے کسی بھی پہلوپرلکھنےکےلیے کثیرصفحات درکارہے۔لہذا تمام پہلوؤں سے صرف نظرذیل میں صرف علمی حیثیت اور مقام ومرتبہ پر چند باتیں ضبط تحریر میں لانےکی کوشش ہے۔

اسم مبارک:
آپ کانام نامی اسم گرامی”عائشہ”کنیت”ام عبداللہ”القابات حمیرا اور صدیقہ ہیں۔

ولادت باسعادت:
ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سن ولادت کے بارے میں مختلف روایات پائی جاتی ہیں مگرائمہ دین اس بات پر متفق ہیں کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اعلان نبوت کے چوتھے سال ماہ شوال میں پیدا ہوئیں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پیدائش سے قبل آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے والدین دین اسلام قبول کرچکے تھے،اس لیے آپ پیدائشی مسلمان ہیں۔آپ کی والدہ ماجدہ کا نام حضرت ام رومان رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا سلسلہ نسب والد بزرگوار کی جانب سے ساتویں پشت میں اور والدہ ماجدہ کی جانب سے گیارہویں پشت میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ نسب سے جاملتا ہے۔

وصال:
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رمضان المبارک۵۷ یا ۵۸ھ کو وصال فرمایا۔ بوقت وصال آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر مبارک سڑسٹھ(٦٧)برس تھی۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔حضرت عبداللہ بن زبیر ودیگراکابرین رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے قبرمیں اتارا۔بوقت وصال آپ نےجو وصیت کی تھیں کہ جنت البقیع میں دیگرازواج مطہرات کے پہلو میں مدفون کیاجائے لہذا اسی پرعمل کیاگیا اور جنت البقیع میں دیگرازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنھن کےپہلو میں آرام فرماہیں۔

علمی حیثیت:
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو علمی حیثیت کےاعتبارسے نہ صرف عام عورتوں پر، امہات المومنین پر،عام وخاص صحابیوں پر بلکہ چند بزرگوں کو چھوڑ کر تمام صحابہ پر فوقیت عام حاصل تھی۔حضر ت ابو سلمہ ابنِ عبدالرحمن ابنِ عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کا جاننے والا، ان سے زیادہ فقیہ اور آیتوں کے شان نزول اور فرائض کے مسئلہ کا واقف کار ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حلال و حرام اورشاعری وطب میں ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔
حضرت عطابن ابی الرباح رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سب سے زیادہ فقیہ، سب سے زیادہ صاحب علم اور عوام میں سب سے زیادہ اچھی رائے والی تھیں۔
امام زہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو تابعین کے پیشوا ہیں فرماتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تمام لوگوں میں سب سے زیادہ علم والی تھیں۔ بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ان سے فقہی مسائل دریافت کیا کر تے تھے۔
حاکم کی ایک روایت میں منقول ہے کہ قرآن،فرائض،حلال وحرام،فقہ،شاعری، طب،عرب کی تاریخ اور نسب کا ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بڑھ کر کوئی عالم عرب میں نہ تھا۔
ابن سعد کی روایت ہے کہ ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خلیفۂ اول حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں ہی مفتی کا منصب حاصل کرچکی تھیں اور مختلف شرعی مسائل پر فتویٰ دیا کرتی تھیں۔حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فتویٰ دیا کرتی تھیں۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سےدوہزار دوسو دس (۲۲۱۰)احادیث مروی ہیں،جن میں سے ١٧٤/متفق علیہ(صحیح بخاری و صحیح مسلم)٥٤/صحیح بخاری میں منفرداور ٦٩/صحیح مسلم میں منفرد۔
بارگاہِ الله جل شانہ میں دست بدعاہیں کہ مولیٰ تعالیٰ جملہ خواتین اسلام پر محبوبہ محبوب رب العالمین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کاعلمی فیضان جاری وساری فرمائے اور علم دین حاصل کرنے کا شوق وذوق عطافرمائے۔آمین یارب العٰلمین بجاہ حبیبہ الکریم علیہ افضل الصلاۃ والتسلیم۔