سیاست و حالات حاضرہ

سیکولر بھارت میں ظلم وستم کی حکمرانی

تحریر: محمد ہاشم اعظمی مصباحی
نوادہ مبارکپور اعظم گڑھ یوپی انڈیا

مکرمی : تقسیمِ ہند کے وقت یہ نعرہ لگایا گیا تھا کہ بھارت کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہوگا یہاں جمہوریت قائم ہو گی جہاں ہندو ، مسلم ، سکھ عیسائی اور دیگر مذاہب و ادیان کے ماننے والوں کو یکساں حقوق حاصل ہوں گے۔ اپنے اس دعوے اور نعرے کو سچ ثابت کرنے کی خاطر آئین ہند میں بھی بھارت کو سیکولر اسٹیٹ قراردیا گیالیکن آج عملی طور پر سب کچھ اس کے برعکس ہورہا ہے بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو روزِ اول سے ہی امتیازی سلوک کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے بغل میں چھری دبا کر منہ سے رام رام کرنے والے مسلم ، عیسائی اور سکھ مذہب کے حقوق آئینی سطح پر تسلیم کرنے کے باوجود اپنے ہی بنائے گئے آئین سے انحراف کر رہے ہیں اور قلبی و ذہنی طور پر نہ صرف یہ کہ ان مذاہب کو تسلیم نہیں کیا بلکہ ان کے ماننے والوں کے لئے عرصہ حیات تنگ کرکے رکھ دیا ہے یہی وجہ ہے کہ نام نہاد سیکولر بھارت کا اصل چہرہ آئے دن واضح ہوتا جا رہا ہے اور ہندوستان بڑی تیزی سے ایک متعصب تنگ نظر اور تشدد پسند ہندو راشٹر میں تبدیل ہوتا جارہا ہے.
واضح رہے کہ ہندوستان کی 79.80 فیصد آبادی ہندوؤں ، 14.2 فیصد مسلمانوں، 2.3 فیصد مسیحی افراد، 1.7 فیصد سکھوں 0.7 فیصد بودھ، 0.4 فیصد جین مت کے ماننے والوں اور 0.07 فیصد یہودیوں، پارسیوں اور دیگر قبائلی مذبی اقلیتوں پر مشتمل ہے۔ موجودہ وقت میں آر ایس ایس کے زیرِ سایہ مودی اقتدار والے بھارت کا منطر نامہ بہت تیزی کے ساتھ بدلتا جا رہا ہے دینا کے سب سے بڑے جمہوری ملک کی جمہوریت کو حکومت وقت کی منشا کے مطابق بلڈوز کیا جارہا ہے فرقہ پرست طاقتیں قوم مسلم پر مسلسل ظلم و ستم کے تیر برسا رہی ہیں اور اس پر مرکزی و ریاستی حکومتوں کی پراسرار خاموشی کے ساتھ پولیس والوں کا متعصبانہ رویہ اور عدلیہ کے تعجب خیز فیصلے بہت کچھ ظاہر کررہے ہیں ۔فرقہ پرست جماعتیں مسلمانوں کو قتل و ہلاک کررہی ہیں ان کی دکان و مکان اور جائیداد تباہ کر رہی ہیں مساجد و مدارس اور مقابر تک کو بلڈوز کیا جارہا ہے اور تعجب بالاۓ تعجب یہ ہے بقول راحت اندوری کہ "اب کہاں ڈھونڈنے جاؤگے ہمارے قاتل. آپ تو قتل کا الزام بھی ہمیں پہ رکھ دو” کے مصداق حکومت کی نظر میں ہم ہی مقتول ہیں اور قاتل بھی ہم ہی ہیں اپنے آپ کو قتل کرنے کے جرم میں ہمیں جیل بھی جانا پڑتا ہے اور دوکان و مکان سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے ڈکٹیٹر حکومتیں بے بنیاد الزامات کے حصار میں لے کر مسلمانوں کے گھروں کو بلڈوزر سے منہدم کرا دیتی ہے.جب سے نریند ر مودی نے اقتدارسنبھالا ہے، بھارت کے سیکولر ازم کی رہی سہی کسریں بھی نکل رہی ہیں۔حیرت اس امر پر ہے کہ مودی کے اقتدار میں آنے سے قبل اقلیتوں کے متعلق جو خدشات ظاہر کئے جا رہے تھے وہ اس قلیل مدت میں ہی سچ ثابت ہونے لگے ہیں۔ تنگ نظر ہندو ازم کا زہر پورے ملک میں پھیل رہا ہے اور اقلیتوں کو مختلف ہتھکنڈوں سے دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے۔ عیسائیوں، مسلمانوں اور سکھوں کو یہ کہہ کر ان کا استحصال کیا جا رہا ہے کہ بھارت صرف ہندوؤں کی سرز مین ہے، یہاں کسی اور گروہ ، فرقے یا مذہب کی جگہ نہیں۔ یوں اپنی مذموم اور گھٹیا حرکات وسکنات سے سیکولر بھارت کے منہ پر کالک مل دی گئی اور ’’جمہوریت ‘‘اپنا منہ چھپاتی پھر رہی ہے۔ وی ایچ پی (وشو ہندو پریشد) ، بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی) ، آر ایس ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگ) ڈی جے ایس (دھرم جاگرن سمیتی) بجرنگ دل، ہندو یوا واہنی وغیرہ جیسی ہندو انتہا پسند تنظیمیں مسلسل اقلیتوں کے خلاف ملک بھر کی سیکولر فضا میں زہر گھول رہی ہیں ان شدت پسند تنظیموں نے ہندو نوجوانوں کو ’’سنگھ پریوار ‘‘کے نام پر متحد کرنے کی تحریک شروع کر رکھی ہے۔ تقریباً سات دہائیوں بعد بھی زندگی کے ہر شعبے میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ان پر عرصہ حیات اس قدر تنگ کر دیا گیا ہے کہ سانس لینا بھی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ فاشسٹوں کی کوشش ہے کہ مسلمانوں، عیسائیوں اور سکھوں کو تعلیم، روزگار، تجارت، غرضیکہ ہر شعبہ حیات میں پسماندہ رکھا جائے تاکہ ہمیشہ یہ دوسرے درجے کے شہری رہیں یا ملک ہی چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں. ملک ہندوستان کی معروف مصنفہ ارون دتی رائے نے 23دسمبر 2015ء کو ممبئی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ :’’ بھارت میں اقلیتیں خوف کے ماحول میں رہ رہی ہیں اور تشدد پسندی کے بڑھتے ہوئے جارحانہ رویوں کو ’’عدم رواداری‘‘ کے چھوٹے سے نام میں نہیں سمویا جا سکتا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہندو مذہب میں عدم برداشت بہت ہے اسی وجہ سے تو بھارتی آئین کے معمار ڈاکٹر امبیڈکر نے ہندو مت چھوڑ کر بدھ مذہب اختیار کر لیا تھا۔ بھارت کی ممتاز صحافی تلوین سنگھ کہتی ہیں :’’بھارت میں اقلیتوں پر جس حساب سے ظلم ہو رہا ہے، اس نے ساری دنیا میں بھارت کو رسوا کر کے اس کے منہ پر کالک مل دی ہے‘‘ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت کی ویب سائٹ ‘ہالٹ دی ہیٹ’ نے جاری اپنی تازہ رپورٹ میں کہا کہ بھارت میں سال2014 کے بعد سے نفرت انگیزی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا اور یہ ابتر صورت حال بدترین حد تک پہنچ گئی ہے ۔ امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) نے بھارت کو اقلیتوں کے لیے خطرناک ملک قرار دیتے ہوئے اسے بلیک لسٹیڈ کرنے کی سفارش کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے