تاریخ کے دریچوں سے

قرآنی گاؤں

ترکی کا محاورہ ہے کہ قرآن کریم حجاز مقدس میں نازل ہوا، مصر میں پڑھا گیا اور ترکی میں لکھا گیا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ دنیا کے نامور خطاط ترکی میں اور ممتاز قراء مصر میں پیدا ہوئے۔ کلام الٰہی سے محبت مصریوں کے خون میں شامل ہے۔ مصر میں ایک ایسا گاؤں یا بستی بھی ہے، جسے ”قریة القرآن“ (قرآنی بستی یا قرآنی گاؤں) کہا جاتا ہے۔ جس میں کوئی گھر ایسا نہیں ہے، جس میں کوئی حافظ قرآن نہ ہو۔ گزشتہ دنوں یہاں قرآن کریم حفظ کرنے کی سعادت حاصل کرنے والے 80 بچوں کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی گئی۔ جن کی عمریں 8 سے 14 برس کے درمیان تھیں۔ یہ پروگرام علاقے کے سب سے بڑے اسٹیڈیم میں منعقد ہوا۔ اس وقت یہاں دنیا کے 6 براعظموں سے تعلق رکھنے والے 6 ہزار بچے کلام پاک یاد کرنے میں مصروف ہیں۔
مطرطارس نامی یہ گاؤں مصری صوبہ الفیوم میں واقع ہے۔ اس گاؤں کے باسیوں کی تعداد ساٹھ ہزار ہے۔ یہاں پہلے حفظ قرآن کریم کا ایک ہی مدرسہ کھلا تھا۔ اب یہاں کے بیس ہزار افراد قرآن کریم کے حافظ بن چکے ہیں۔ جبکہ مصر سمیت دنیا میں کوئی علاقہ ایسا نہیں ہے، جہاں مطرطارس سے زیادہ کتاب الٰہی کے حافظ موجود ہوں۔ یہاں آپ کو نو برس کے بچوں سے لے کر اسی سالہ بزرگ بھی قرآن کریم کے حافظ ملیں گے۔ کوئی گھر ایسا نہیں ہے، جہاں کوئی نہ کوئی حفظ قرآن کی سعادت حاصل کرنے والا نہ ہو۔
اس وقت مطرطارس میں حفظ قرآن کریم کے حلقے سجانے اور بچوں کو کلام پاک یاد کرنے والے قرائے کرام کی تعداد درجنوں میں ہے۔ جبکہ تین ہزار بچے اور بچیاں کلام پاک یاد کرنے میں مصروف ہیں۔ مطرطارس میں حفظ قرآن کریم کی کل 80 کلاسیں ہیں۔ جن میں سے 11 کلاسز بچیوں کے لئے مخصوص ہیں۔ جہاں ماہرین حفظ درس و تدریس میں مصروف عمل ہیں۔ یہ دنیا کا واحد گاؤں ہے، جہاں چھ سو حفاظ ایسے ہیں، جو قرآن کریم کو قرات سبعہ میں یاد کر چکے ہیں۔ جبکہ سب سے زیادہ حفاظ والا یہ دنیا کا پہلا گاؤں ہے۔ یہاں تجوید قرات کی چھ کلاسیں ہیں۔ عنقریب اس گاؤں کی نصف سے زائد آبادی قرآن کریم کی حافظ ہوگی۔
یہاں کے کچھ حفاظ کرام نے عالمی مقابلوں میں حصہ لے کر ممتاز پوزیشنیں بھی حاصل کی ہیں۔ جن میں صلاح احمد عیسیٰ اور حسین عبد الغفار شامل ہیں۔ قرآنی تعلیم کے فروغ کیلئے حکومت کی جانب سے ایک پائی بھی خرچ نہیں کی جاتی۔ یہ سب کچھ گاؤں کے باسی خود کلام الٰہی سے محبت کے نتیجے میں کر رہے ہیں۔
مطرطارس میں حفظ کے ساتھ قرآن کریم کی کتابت اور خطاطی بھی سکھائی جاتی ہے۔ یہاں کے ڈیڑھ سو خطاط جامعہ ازہر کے زیر اہتمام قرآن کریم کی خطاطی کرتے ہیں۔ اس گاؤں کے ہر باسی کی دلی خواہش ہے کہ اس کے بچے بچپن میں ہی کتاب الٰہی کے حافظ بنیں۔
اس گاؤں کی حالت بھی حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے نہایت ناگفتہ بہ ہے۔ گاؤں کے ایک ذمہ دار شخص محمد احمد مصطفی کا کہنا ہے کہ سیوریج سسٹم سے لے کر بجلی اور پانی کی سہولیات کے حوالے سے گاؤں کے باسیوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے۔ یہاں پچیس برس قبل سیوریج کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا۔ جو کہ ہنوز تشنہ تکمیل ہے۔ سید عبد العزیز فیری کا کہنا ہے کہ بجلی کا نظام نہایت ناقص ہے۔ جبکہ یہاں کے بیشتر لوگ خطِ غربت سے نیچے گزارنے پر مجبور ہیں۔ گاؤں میں راستوں کی دشواری کے ساتھ ساتھ صحت کے امور پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے اور اس وجہ سے بیماریوں کا پھیلنا یہاں عام ہوچکا ہے۔ مگر اس سب کے باوجود کلام پاک سے ان کی محبت کی مثال ملنا مشکل ہے۔
سابق آمر حسنی مبارک نے اس گاؤں کا نام فرعونی گاؤں رکھا تھا۔ مگر اہل مطرطارس نے اپنے گاؤں کو قرآن کریم کے نور سے منور کرکے ثابت کر دیا کہ وہ فرعونی نہیں، بلکہ قرآنی گاؤں ہے۔
مطرطارس کے علاوہ مصر میں ایک اور گاؤں بھی ایسا ہے، جہاں قرآن کریم کی تعلیم کو خوراک کی طرح اہم سمجھا جاتا ہے۔ خبررساں ادارے البوابة نیوز کے مطابق صوبہ قنا کے گاوں الشیخیةکا ہر شخص قرآن پڑھنے اور حفظ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
بارہ ہزار آبادی پر مشتمل اس گاؤں میں بہت سے حافظ قرآن رہتے ہیں اور اس گاؤں کے بزرگوں کی کوششوں سے یہ گاؤں ایک قرآنی اور نمونہ گاوں شمار کیا جاتا ہے۔
الشیخیة میں بہت سے مدارس اور مساجد آباد ہیں، جہاں قرآن کریم پڑھایا جاتا ہے، بلکہ گھروں میں بھی ہر فرد مفت قرآن سکھ سکتا ہے۔ گاؤں کا باشندہ عبدالفتاح علی مزارع کا کہنا ہے کہ قرآن ہمارے لیے برکت ہے اور ہم اپنی اولادوں کو درس دیتے ہیں کہ وہ قرآن کی مدد سے زندگی کی مشکلات پر قابو پالیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسکول کی طرح قرآن بھی انسانی شخصیت بہت گہرا اثر ڈالتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے