نبی کریمﷺ

تحفظ ناموس رسالتﷺ: ہیں محب ایسے کہ محبوب پہ مر جائیں گے

ازقلم: شیخ احمد نقشبندی اعظمی
یوپی اندیا

محب کی یہ فطرت ہوتی ہے کہ وہ اپنے محبوب پہ مرمٹنے کا جذبہ رکھتا ہے۔ آپ نظر اٹھا کر دیکھیں تو اس کی بہت سی نظیر مل جائے گی، محبوب چاہے جیسا بھی ہو محب ہر وقت جاں نثاری کے لیے تیار رہتا ہے، اس بات کو ہر کوئی تسلیم کرتا ہے اور کسی کو اس سے انکار بھی نہیں۔
یہ تو اک عام محبوب کا معاملہ ہے مگر آج میں جس محبوب کا ذکر کرنے جارہا ہوں وہ کوئی عام نہیں بلکہ ایسا محبوب ہے جو محبوبِ کونین ہے یہ وہ محبوب ہے جسے جن و انس محبوب رکھیں، یہ وہ محبوب ہے جسے بحر و بر، خشک و تر اور برگ و شجر سبھی محبوب رکھتے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ نبی ﷺ جس راہ سے گزرتے برگ و شجر جھک کر سلام کرتے کبھی پہاڑ سے درود و سلام کی آواز آتی اور کبھی زمین اپنے سینے کو چاک کر کے چشمے جاری کرتی ، ایسے محبوب پہ مر مٹنے کا جذبہ کس دل میں نہیں ہوگا !

جب ایک دیا روشن کیا جاتا ہے تو نہ جانے کہاں کہاں سے پروانے گرتے پڑتے پہنچتے ہیں اور مر مٹتے ہیں ، پہلے وہ شمع پہ جلتے اور زمین پر گر پڑتے ہیں پھر اٹھ کر اسی شمع پر جا گرتے ہیں اور اسی طرح وہ جان نچھاور کردیتے ہیں، جب تک دم میں دم ہو اٹھنا اور شمع پر جلنے والے کو ہی پروانہ کہتے ہیں، جب ایک دیا جلنے پر پروانوں کا یہ عالم ہوتا ہے تو شمع نبوت کے پروانوں کا کیا عالم ہوگا؟

جب مکہ کی سر زمین پر وہ شمع نبوت روشن ہوا تو ساری کائنات کے پروانے اس شمع نبوت کی طرف دوڑ پڑے ، اور جاں نثاری کی ایسے بے مثال پروانوں کے ذکر سے تاریخ کے صفحات روشن ہیں۔ مکہ سے لے کر کربلا تک کی تاریخ دیکھیں ایک سے بڑھ کر ایک پروانے ایک سے بڑھ کر ایک ایسے محب مل جائیں گے جنھوں نے آپ ﷺ پر اپنی جان مال اولاد احباب سب نچھاور کر دیئے۔

آج ہمارے ملک میں جو صورت حال نظر آرہی ہے اور لوگ احتجاج کے لیے نکل پڑے ہیں، یہ ان انتشار پسندوں کا کارنامہ ہے ان انتشار پسندوں کو نظر انداز بھی کیا جاسکتا تھا اگر محبوب کی بات نہ ہوتی مگر بات محبوب کی ہے بلکہ محبوب کونین کی ہے۔ یہی وجہ کہ جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ یہ صرف ہند کے مسلمانوں کا معاملہ ہے ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کہ کس محبوب کی ناموس پہ انگشت زنی کرنے کی حماقت کردی! کہ ہر مسلم ملک اٹھ کھڑے ہوئے! سب نے یہ ثابت کر دیا کہ

ہیں محب ایسے کہ محبوب پہ مر جائیں گے

یہ بات واضح رہے کہ یہ محبوب صرف محبوب کائنات نہیں بلکہ محبوب خدا بھی ہے اور خدا اپنی محبوب شئے پر انگشت زنی پسند نہیں فرماتا، جو لوگ اسلام پڑھنے کا بہت شوق رکھتے ہیں اور یہ جاننا چاہتے ہیں کہ نبی ﷺ کی کتنی شادیاں ہوئیں، کس کس عمر میں ہوئیں یا جو لوگ مسلمانوں کو اسلام سکھانے کا شوق رکھتے ہیں انہیں یہ بھی جاننا چاہئے کہ محبوب کی بارگاہ میں گستاخی خدا کو پسند نہیں، کیا اصحاب فیل کا واقعہ نہیں پڑھا؟ خانہ کعبہ جو بیت اللہ کہلایا اللہ کی بارگاہ میں مقبول و محبوب۔ جب اس پر آنچ آئی تو اللہ نے ابابیل جیسے چھوٹے پرندوں سے اصحاب فیل کو تباہ و برباد کر دیا ، کچھ لوگ سوچیں گے جب اللہ عذاب نازل کر سکتا ہے تو پھر اس احتجاج کی کیا ضرورت تو وہ لوگ بھی جانیں احتجاج ہماری ضرورت نہیں محبت ہے، یاد رہے جس دم ہم سے یہ پاور یہ اختیار بھی چھین لیا گیا ، اور ہم نے اللہ کے حوالے کر دیا کہ اے اللہ ہم میں تاب نہیں کہ دشمنان رسولﷺ کے مددے مقابل کھڑے ہوسکیں تیرے اور تیرے محبوب کا معاملہ ہے اپنے محبوب کی ناموس کی حفاظت فرما، قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ہند کا نقشہ بدل جائے گا

اس لیئے جو لوگ اسلام کو جاننا چاہتے ہیں پوری طرح ایمانداری اور سچائی سے پڑھیں یوں انگشت زنی کے لیئے نہ پڑھیں ہمارا ملک ان ساری چیزوں سے پاک تھا، ہر مذہب کے لوگ ایک ساتھ مل جل کر رہنا پسند کرتے تھے، مگر کچھ شرپسندوں نے ملک کا سارا معاملہ درہم برہم کرنے کی کوشش کی ایسے لوگوں کو سزا ملنی چاہئے تاکہ پھر کبھی کوئی نااہل ایسی حرکت کرنے کی کوشش نہ کرے ملک امن و امان چاہتا ہے پر سکون زندگی گزاریں اور گزارنے دیں، اگر اسی طرح اختلاف و انتشار پھیلے گا اور اس کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا حکومت کی جانب سے تو پھر نقصان صرف ہمارا نہیں سب کا ہوگا کسی شاعر نے کہا

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر گئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

اللہ سے دعا ہے مولا اپنے حبیب کے صدقے ملک میں امن و امان پیدا فرمائے، شر پسندوں کو ان کے انجام تک پہنچائے اور ہمیں ناموس رسالتﷺ پر مر مٹنے کا جذبہ عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین بجاہ النبی سید المرسلین ﷺ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے