سیاست و حالات حاضرہ

یوم جمہوریہ: حقیقت خرافات میں کھو گئی!

ازقلم: راشد امین القاسمی
متعلم: المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

ہر سال 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کا جشن منا کر اس بات کا اظہار و اعتراف کیا جاتا ہے کہ ہم جن اصول و قوانین اور نظم و نسق کے پابند و پاسدار ہیں انھیں ہم نے خود ہی تیار کیا ہے اور خود ہی اسے نافذ بھی کیا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کیسے مجاہدین آزادی نے بے خطر آتش فرنگ میں کود کر انگریزوں کی بیخ کنی کر کے اپنا ذاتی و تخلیقی دستور کے ذریعہ انگریزوں کے نافذ کردہ انسانیت سوز قوانین سے وطن عزیز و باشندگان وطن کو ذہنی و جسمانی طور پر آزاد کیا۔ آزادی ملنے کے بعد سب سے بڑا مسئلہ یہ اٹها کہ ملک کا دستور کیسا ہو، مذهبی ہو یا لامذہبی، اقلیت و اکثریت کےدرمیان حقوق کس طرح طے کئے جائیں۔ بہر حال ایک ایسا آئین منصۂ شہود پر آیا جو مذہبی تھا نہ لامذہبی بلکہ اس کے اصول و ضوابط اور دفعات و قوانین اخوت و محبت، ہمدردی و مواخات کی بنیاد پر بنائے گئے تھے۔ چنانچہ آئین ہند کے ابتدائ حصے میں صاف صاف یہ لکھا گیا ہے کہ: ”ہم بھارت کے لوگ یہ تجویز کرتے ہیں کہ بھارت کو ایک آزاد، سماجوادی، جمہوری، ملک کی حیثیت سے وجود میں لایا جائے، جس میں تمام شہریوں کیلئے سماجی, معاشی، سیاسی، انصاف، آزادئ خیال، آزادی اظہار رائے، آزادئ عقیدہ ومذهب وعبادات، انفرادی تشخص، اور احترام کو یقینی بنایا جائے گا، اور ملک کی سالمیت و یکجہتی کو قائم و دائم رکها جائیگا“
26 جنوری 1950 کو یہ ملک بھارت جمہوری ہوا، یعنی ملک میں شہریوں نے اپنا قانون لاگو کیا، آزاد ہندوستان کا اپنا دستور (قانون) بنانے کیلئے ڈاکٹر بهیم راؤ امبیڈکر کی صدارت میں 29 اگست 1947 کو سات رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جسکو ملک کا موجوده دستور مرتب کرنے میں 2 سال 11ماه اور 18دن لگے تھے، دستور ساز اسمبلی کے مختلف اجلاس میں اس نئے دستور کی ہرایک شق پر کهلی بحث ہوئی، پھر 26 نومبر 1949ء کو اسے قبول کرلیاگیا, اور 24 جنوری 1950ء کوایک مختصر اجلاس میں تمام ارکان نے نئے دستور پردستخط کردیا۔

اہمیت و افادیت: وطن عزیز کے دستور کی اہمیت و افادیت اور فضیلت و ضرورت بہت زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دستور کی بنیاد و اساس عدل و مساوات، اخوت و بھائی چارگی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں صدیوں سے طبقاتی نظام، عدم مساوات اور چھوا چھوت کے رویے نے باشندگان وطن کی شخصیت و کردار کو مفلوج و معطل اور مجروح کردیا ہو۔ جہاں ہر بڑا چھوٹے کی جسم و جائداد کو اپنا موروثی حق سمجھ کر بے جا استعمال کرتا ہو۔ جہاں بنت حوا کی حیثیت و وقعت معدوم و مسلوب رہی ہو۔ کمسنی کی شادی کی حوصلہ افزائی کی گئی ہو اور بیوائوں کی شادی کو نظر انداز کیا جاتا ہو۔ لڑکیوں کی پیدائش کو اس حد تک منحوس سمجھا جاتا ہو کہ بے شمار والدین ‘ نومولود لڑکیوں کو ہلاک کردیا کرتے تھے ۔ بیوائوں کے ساتھ بے انتہا بدسلوکی کے نتیجہ میں ستی کی رسم عام ہوگئی۔ ایک ایسے ملک میں مساوات و برابری اور اخوت و بھائی چارگی سے لبریز دستور کا نفاذ یقینا بہت زیادہ قدر و قیمت کا باعث ہے۔ یہ دستور ایک شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے۔ انھیں ظلم و استحصال اور نا انصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کا حق دیتا ہے۔ دستور ہند میں جو بنیادی حقوق دیئے گئے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:

حق مساوات: مساوات و برابری کا حق دستور کی اہم ضمانتوں اور اختیارات میں سے ایک ہے۔ وطن عزیز میں بسنے والے تمام شہری بحیثیت انسان یکساں و مساوی حقوق کے مالک ہیں اور آئینی اعتبار سے ان کے درمیان کسی قسم کی بھید بھاؤ، ادنیٰ و اعلیٰ اور بڑے چھوٹے کی کوئی تفریق نہیں۔ حقوق و اختیارات میں کسی کو کسی پر فوقیت و برتری نہیں دی گئی ہے۔ چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا آئین واضح طور پر عدل و انصاف اور مساوات و برابری کا پاسدار ہے۔ یہ حق دفعہ 14 تا 16 میں مندرج ہے، جن میں اجتماعی طور پر قانونی مساوات اور غیر امتیازی سلوک کے عام اصول شامل ہیں اور دفعہ 17 تا 18 میں اجتماعی طور پر سماجی مساوات کا فلسفہ مذکور ہے۔ دفعہ 14 قانونی مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور ساتھ ہی اس ملک کے تمام شہریوں کو قانون کا یکساں تحفظ فراہم کرتا ہے۔ دفعہ 15 میں مذہب، نسل، ذات، جنس، جائے پیدائش یا ان میں سے کسی ایک کی بنیاد پر امتیازی سلوک کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ دفعہ 17 میں چھوت چھات کو قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔

حق آزادی: دستور سازوں نے حق آزادی کی اہمیت کے پیش نظر اس حق کو دفعہ 19-22 میں شامل کیا ہہے۔ دفعہ 19 میں شہری حقوق کے تحت چھ آزادیوں کی ضمانت دی گئی ہے:

آزادی اظہار رائے
بدون ہتھیار اجتماع کی آزادی
آزادیئ تنظیم
بھارت کے کسی بھی علاقے میں سفر کی آزادی
بھارت کے کسی بھی خطے میں سکونت کی آزادی
پیشہ، کاروبار یا تجارت کی آزادی

استحصال کی مخالفت کا حق: اس کے ذیل میں تین باتیں مندرج ہیں۔
انسانوں کی خرید و فروخت (Prohibition of traffic in human being): یعنی کسی شخص کو نہ تو خریدا جا سکتا ہے اور نہ ہی بیچا جا سکتا ہے۔
استخدام بالجر (Prohibition of forced labour and beggar): یعنی کسی شخص کو مجبور کرنا کہ وہ بلا کسی معاوضہ کے یا بہت ہی معمولی معاوضہ پر خدمت انجام دے۔
بچوں سے کام کروانا (Child labour): یعنی 14 سال سے کم کے بچوں سے کام کروانا۔

مذہب کی آزادی: انسانی فطرت پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے اندر سب سے حساس مذہبی جذبہ ہوتا ہے۔ اس کے تحت ہی مختلف افراد میں جنگ و جدل کا وجود نظر آتا ہے۔ یہ باتیں ان ملکوں میں کچھ زیادہ ہی رونما ہوتی ہیں جہاں مختلف مذاہب کے پیروکار و رہتے ہوں۔ ملک عزیز کا اس سلسلہ میں بہت نمایاں و ممتاز حیثیت و مقام ہے۔ کیونکہ یہاں مختلف ادیان و مذاہب اور جدا گانہ طرز زندگی کے ماننے والے موجود ہیں۔اس سلسلے میں ہمارے سیاسی قائدین نے بڑی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا کہ انھوں نے یہاں کسی مذہب کو خاص اہمیت نہ دے کر سب کو برابر اوریکساں حقوق دیئے۔ اس لئے آئینی اعتبار سے ملک کے ہر ایک شہری کو اپنے مذہب پر آزادانہ عمل کرنے، اس کی تبلیغ و تشہیر کرنے اوراس کے اصولوں پر چلنے کی مکمل آزادی دی گئی۔ اس سلسلے میں آئین کی دفعہ 25 میں کہا گیا ہے۔ ”تمام اشخاص کو آزادی ضمیر اور آزادی سے مذہب قبول کرنے۔ اس کی پیروی کرنے کا مساوی حق حاصل ہے۔“

ثقافتی اور تعلیمی حقوق: ہمارا ملک مختلف تہذیبوں کا امین اور مختلف تعلیمی نظریات کا گہوارہ ہے۔ اسی وجہ سے یہاں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ تمام ہی لوگوں کو اپنی تہذیب وثقافت اور علم و ادب کی حفاظت و فروغ کے حقوق حاصل ہوں۔ یہاں کے ہرایک شہری کو ہی حصول تعلیم کی آزادی اور اپنے شعائر و ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کااختیار دیا جائے۔ اس سلسلے میں آئین کی دفعہ 29میں کہا گیا ہے۔ ”بھارت کے علاقے میں یا اس کے کسی بھی حصے میں رہنے والے شہریوں کے کسی طبقے کو جس کی اپنی جداگانہ زبان، رسم الخط یا ثقافت ہو، اس کو محفوظ رکھنے کا حق حاصل ہوگا۔“ آئین کی دفعہ 30 میں یہ بھی کہا گیا ہے۔ ”تمام اقلیتوں کو خواہ وہ مذہب کے نام پر ہوں یا زبان کے، اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اوران کے انتظام کاحق حاصل ہوگا۔“

دستوری چارہ جوئی کاحق: امن و امان اور سکون و سلامتی کی فضا ہموار کرنے کے لئے کورٹ و دیگر عدالتوں سے چارہ جوئی کرنے کا حق سب کو حاصل ہے۔ متعلقہ عدالتوں کو ان حقوق کی بحالی اور تحفظ کے لئے ہدایات یا احکام یا مختلف خصوصی فرمان جاری کرنے کااختیار دیا گیا ہے۔ آئینی اعتبار سے عدالتی چارہ جوئی کے حق کو محض دستور میں بیان کی گئی متعلقہ دفعات کے تحت ہی معطل و منسوخ کیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں پارلیمنٹ کو یہ حق دیاگیا ہے کہ وہ یہ طے کرے کہ کون سے بنیادی حقوق کس حد تک کسے دیئے جائیں۔ غرض کہ آئینی اعتبار سے ملک کے ہر ایک شہری کو ہی کسی بھی معاملے میں دستوری چارہ جوئی کا پورا پورا حق دیاگیا ہے۔ مذکورہ بالا تفصیل کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ہمارے آئین میں جس طرح سے عوام الناس کو بالادستی حاصل ہے اور یہاں کے رہنے والوں کے بنیادی حقوق کا جس طرح لحاظ رکھا گیا ہے اس بنا پر بلا خوف تردید یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ہمارا دستور پوری طرح سے انسانی حقوق و فرائض کا پاسدار اور اس کا سچا علمبردار ہے۔

وطن عزیز کے موجودہ حالات: یہ ملک جسے مجاہدین نے اپنی جانوں کا نذرانۂ عقیدت پیش کر کے ظالم و جابر فرنگی حکومت و اقتدار اور غلامی سے آزاد کرایا تھا اور جس کی حریت میں کم و پیش ہر قوم؛ مسلم، ہندو، سکھ، عیسائی وغیرہ نے حصہ لیا تھا اور تمام قوموں نے یکجہتی اور اتحاد کا بے نظیر نمونہ پیش کر کے وطن عزیز کو با اختیار بنایا۔ اور اس راہ حریت و آزادی میں لاکھوں افراد نے اپنی جانیں قربان کر دیں۔ آاکابرین نے اس ملک کے نظم و نسق اور حکومت و سیادت کے لئے ایسے اصول و قوانین وضع کئے جو عدل و انصاف، اخوت و محبت، ہمدردی و غمگساری اور مساوات و برابری کا علمبردار ہے۔ جو اس بات کی تصدیق و تائید کرتا ہے کہ اس ملک میں بود و باش اختیار کرنے والا ہر ایک شخص مساوی و برابر ہے۔ ہر ایک فرد ملت کو مساویانہ حقوق و اختیارات حاصل ہیں۔ عدالت کی نگاہ میں نہ تو کوئی بڑا ہے نہ چھوٹا، نہ کوئی اعلیٰ ہے نہ ادنی۔ دستور اس بات کو یقینی و محکم بناتا ہے کہ مظلوم و محروم کی حمایت و حفاظت کی جائے گی اور ظالم و غاصب کو سزا دی جائے گی۔
مگر حیف و صد افسوس کہ یہ اصول و ضوابط فقط دستور کی زینت اور آئین ہند کے صفحات کا ایک حصہ بن کر رہ گئیں۔ ہر طرف خوف و ہراس اور دہشت و وحشت کا ماحول بپا ہے۔ لوگ ڈر کے سائے تلے زندگی گزار رہے ہیں۔ مجبور و بے کس، ظالمین کے جبر و تشدد کے نشانہ بن رہے ہیں۔ گئو رکشا کے نام پر سر عام ایک معصوم کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ ملک بھر میں گئو رکشکوں کی غنڈہ گردی جاری ہے۔ جو ریاست کی فرقہ وارانہ صورت حال کو خراب کرنے کی ایک منصوبہ بند کوشش ہے۔ آئے دن ہجوجی دہشتگردوں کے ذریعہ موت کے گھاٹ اتار کر سفاکی و ستم گری کی نئی داستان لکھی جاتی ہے۔ اور یہ سب کر کے ملکی فضا و مکدر و مسموم اور آلودہ کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ واضح رہے کہ ماب لنچنگ کے سب سے زیادہ واقعات موجودہ حکومت کے دور اقتدار میں ہی منظر عام پر آئے ہیں۔ المیہ یہ کہ ان واقعات میں ملوث افراد اور ملزمین کو کسی طرح کی سزا ملنا تو دور کئی مجرمین بر سر اقتدار پارٹی کی ریلیوں میں صف اول میں نظر آتے ہیں۔ بے کس و بے بس عوام کو ہدف لعنت و ملامت بنا کر انھیں بار بار یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ محکومی و مظلومی میں زندگی بسر کر رہے تھے، ہیں اور آئندہ بھی کریں گے۔ قانون کے رکھوالے اور وردیوں میں ملبوس عاملہ حکومت کے زر خرید غلام بنے ہوئے ہیں۔ قانون ،آئین ، عدالت ، جج، وکیل حکومت کا آلۂ کار بن چکے ہیں۔ ہر کچھ دنوں میں فساد بپا کیا جاتا ہے جسے کبھی تو سیاست تو کبھی فرقہ پرست تنظیموں کی طرف منسوب کر دیا جاتا ہے۔ اور ان فسادات میں جانی و مالی نقصان و خسران غریب و نادار عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ جس کے بعد ان کی حالت اتنی بری ہوتی ہے کہ وہ دو وقت روٹی کیلئے پریشان نظر آتے ہیں۔ ان کے مکانات نذر آتش ہوچکے ہوتے ہیں جس کی تعمیر نو کی سکت نہ تو ان کے اندر ہے اور نہ ہی ان کے پاس رات گزارنے کے لئے کوئی ٹھکانہ ہوتا ہے۔ جب کوئی وطن کا خیر خواہ دستوری حدود و قیود میں رہ کر آئینی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے حکومت وقت سے سوال پوچھنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے غدار وطن قرار دیتے ہوئے پس دیوار زنداں بھیج دیا جاتا ہے۔ پر امن احتجاج کے ذریعہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے والے کو حکومتی جبر و تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غرض یہ کہ اس ملک کا شہری دستوری بنیادی حقوق سے بھی محروم و نامراد ہے۔

حکومت کا رد عمل: اقتدار و اختیار کے حاصل ہوتے ہی عوام سے کئے گئے عہد و پیمان کو بھول کر ذاتی مفاد و مدعا میں گم ہو جانا سیاسی پارٹیوں کی ہمیشہ سے عادت رہی ہے۔ لیکن موجودہ حکومت کی پشت پناہی میں شر پسند عناصر نے اس ملک کی رعایا کے ساتھ بد سلوکی و بد تمیزی کی ایک نئی داستان لکھی۔ مجرمین کو سزا دیکر مظلوموں اور بے کسوں کو انصاف دلانا تو دور حکومت نے ظالموں کی حمایت و حفاظت کی۔ انھیں سلاخوں کے پیچھے محبوس کرنے کے بجائے مظلوموں ہی کو ڈرا دھمکا کر خاموش کرا دیا گیا۔ یہ بھی ایک افسوسناک سچائی ہے کہ یہ دستور جن ہاتھوں میں ہے وہ اپنے ذہنی تحفظات کی بناء پر اس دستور کو مکمل طورپر نافذ کرنے سے گریزکرتے ہیں۔ مزید برآں اکثر و بیشتر فسادات و جرائم میں حکومت کے کارکنان برابر کے حصہ دار ہی نہیں بلکہ مکمل طور پر ملوث و قصوروار پائے گئے۔ جس حکومت کا انتخاب باشندگان قوم نے ملک و ملت کی صلاح و فلاح اور اہل وطن کے امن و سکون کے لئے کیا تھا۔ جسے سیادت و قیادت کی باگ ڈور اس لئے سپرد و تفویض کی گئی تھی کہ وہ شہریوں کے درمیان اخوت و محبت اور باہمی اتحاد و اتفاق قائم کرے گی۔ لیکن بصد حسرت و افسوس یہ کہنا پڑھ رہا ہے کہ موجودہ حکومت صلح و آشتی قائم کرنے کے بجائے خوف و ہراس کی فضا قائم کر رہی ہے۔ امن و آمان نافذ کرنے کے بجائے دہشت و وحشت کے حالات بنا رہی ہے۔ اگر کوئی مرد متین ظلم و بربریت اور حق تلفی و نا انصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کی کوشش کرتا ہے تو حکومت و انتظامیہ اس کی صوت ناتواں پر لبیک کہنے اور اس کی نصرت و مدد کرنے کے بجائے، اس کی صدائے بازگشت کو خاموش و سرد کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ جب بھی کوئی ہمدرد وطن حاکم وقت سے سوالات کرنا شروع کرتا ہے تو اسے باغئ ملت اور غدار قوم قرار دیا جاتا ہے۔ اگر فی الفور سائل نے اپنی آواز بند نہ کی تو اسے حکومتی عاملہ کی ذہنی و جسمانی جبر و تشدد برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس ظلم و تعدی میں ذرائع ابلاغ اور اخبار و رسائل بھی برابر کے شریک و سہیم ہیں۔ ذرائع ابلاغ جسے جمہوری مملکت کا پانچواں اور اہم ستون گردانا جاتا ہے۔ جس کا وجود ہی رعایا کی خدمت اور عوام کی صوت ناتواں کو بلند کر کے سیاسی پارٹیوں سے سوال پوچھنا ہے۔ جس کی زیست ہی باشندگان وطن کو دستوری و آئینی حقوق دلانا ہے۔ وہ میڈیا عوام سے سوالات پوچھنے لگی ہے۔ مظاہرین کی منفی تصویر منظر عام پر لا کر غیر دستوری اور مذہبی بنیادوں پر بنائے گئے قوانین کی تائید و تثبیت کر کے معصوم و بھولی بھالی عوام کو یہ باور کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ یہ قوانین دستور کے اصول و ضوابط کے عین مطابق ہیں اور انسانی فطرت و طبیعت کے ہم آہنگ بھی۔

ہماری ذمہ داری: ملک میں بسنے والے ہر ایک شہری کی یہ آئینی و دستوری ذمہ داری ہے کہ وہ ملک و ملت کے حفظ و بقا کے کئے ہر وقت ساعی و کوشاں رہے۔ اسے ہر طرح کے ضرر و نقصان اور خسران سے بچانے اور محفوظ رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشس کرے۔ دستور کی بقا وطن عزیز کی بقا کو مستلزم ہے۔ یہاں کے شہری اسی وقت محفوظ و مامون ہیں جب تک اس ملک کا دستور محفوظ ہے۔ لہذا جب کوئی ملعون و ظالم آئین میں مندرج اصول و قوانین کے خلاف کوئی قدم اٹھائے یا دستور میں دیئے گئے حقوق و اختیارات کے خلاف کوئی قانون بنانے کی کوشش کرے تو آئین کے تحفظ و دفاع اور ملک و ملت کی امن و سلامتی کے لئے پر امن طریقے سے مکمل یکجہتی اور اتحاد کے ساتھ قانون ساز اداروں اور وقت کی حکومت سے اپنے حقوق و اختیارات کا مطالبہ لازم و ضروری ہے۔ وطن عزیز میں بسنے والے باعزت شہریوں پر بھی یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ خود کو آئین و دستور کے پابند و پاسدار بنائیں۔ اور دستوری دائرہ میں رہتے ہوئے اپنے حقوق و اختیارات سے استفادہ کریں۔ کسی ایسے عمل کا مرتکب نہ ہوں جس سے کسی باعزت شہری کے جذبات و شخصیت مجروح و مطعون ہوتے ہوں۔ ہر ایک شخص اپنے تئیں ذمہ دار ہے کہ وہ فضا کو مکدر و مسموم اور آلودہ کرنے والے ہر عنصر و مادہ کو نیست و نابود اور جڑ سے ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔ اور ماحول کو سازگار و خوشگوار اور امن و سکون کا گہوارہ بنانے کی تگ و دو میں مصروف رہے۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button