مذہبی مضامین

بڑا کٹھن ہے خزاں کے ماتھے پر داستان گلاب لکھنا: وسیم رضوی کے نام وحی الہی کا پیغام

تحریر: میر ابراھیم سلفی
مدرسہ سلفیہ مسلم انسٹچوٹ، بارہمولہ کشمیر
رابطہ نمبر:6005465614

یہ منصف بھی تو قیدی ہیں ہمیں انصاف کیا دیں گے
لکھا ہے ان کے چہروں پر جو ہم کو فیصلہ دیں گے

قرآن مقدس وہ عظیم اور ارفع کتاب مجید ہے جس کا ہر ہر حرف، ہر ہر نقطہ منزل من اللہ ہے۔ قرآن مقدس وہ واحد آسمانی وحی ہے جو اپنی اصلی حالت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ قرآن عظیم نبی کریم ﷺ پر نازل ہوا، یہ وہ اعلیٰ کلام ہے جو صفت رب العالمین ہے، جس کی تلاوت کرنا عبادت الہی ہے، جس کا ہر لفظ معجز ہے، جس کے حفاظ ہر دور میں تواتر کے ساتھ موجود ریے ہیں اور جس کے حروف مصاحف میں قید کردئیے گئے ہیں۔قرآن مقدس معجزات نبوی ﷺ میں سب سے عظیم معجزہ ہے جو قیامت تک باقی رہے گا۔قرآن مقدس کی حفاظت کا ذمہ خود رب کائنات نے لیا ہے۔قرآن مجید کے بابرکت الفاظ روحانی امراض کی دوا اور روحوں کی زندگی کے باعث حیات ہے۔قرآن مقدس کلام اللہ ہے جو کی غیر مخلوق ہے۔ قرآن مجید ام العلم ہے، قرآن مقدس وہ ضابطہ حیات و نظام حیات ہے جس کا ہر قانون رب ذوالجلال نے نازل کیا ہے۔روۓ ارض پر آسمانی و آفاقی نظام کا واحد نسخہ کیمیاء یہی قرآن مبین ہے۔قرآن کی تلاوت کرنے والا زندہ اور نہ کرنے والا شریعت کی میزان میں مردہ ہے۔اس کتاب مبین کو تلاوت کرنے والا، پڑھنے اور پڑھانے والا، سیکھنے اور سکھانے والا خیر البریہ ہیں۔قرآن مقدس ہمارے ہر سؤال کا جواب وضاحت کے ساتھ بیان کرتا ہے۔نبیﷺ نے وفات سے قبل وصیت کی تھی کہ میں تمہارے درمیان قرآن اور اس کی عملی شرح یعنی سنن چھوڑ کر جارہا ہوں، انہیں مضبوطی سے تھام لینا، ہر گز گمراہ نہیں ہوجاؤ گے۔نبوی ﷺ شریعت کی راتیں بھی دنوں کی طرح روشن ہیں۔قرآن مقدس ہی حبل اللہ ہے جسے مضبوطی سے تمسک کرکے انسان کامیابی کی راہوں پر سفر کرسکتا ہے۔
قرآن کے ہوتے ہوئے کسی اور کتاب کی تلاوت کرنے کو نبی کریم ﷺ نے بھی برداشت نہ کیا اگرچہ تلاوت کرنے والا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ہی کیوں نہ ہو۔رب تعالیٰ کے اس نورانی کلام میں دلوں کی راحت پوشیدہ ہے۔ قرآن مبین محفوظ کلام ہے۔ قرآن کا اسلوب، فصاحت و بلاغت اور اثر انگیزی میں واضح معجزہ ہے۔ یہ اعلیٰ کلام سراپا ہدایت یے۔قرآن مقدس عالمگیر کتاب ہے۔ قرآن مقدس فصیح و بلیغ وعظ پیش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر طہ حسین نے بہترین کلام کیا ہے کہ قرآن نہ تو نظم اور نہ ہی نثر بلکہ قرآن تو قرآن ہے۔ قرآن مقدس ہر قسم کے تضاد سے پاک اور بری ہے۔اسکے مبارک الفاظ نہایت ہی پر اثر ہیں۔ قرآن مجید کا ماہر معزز و محترم فرشتوں اور معظم و مکرّم انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہو گا اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہو لیکن اس میں اٹکتا ہو اور (پڑھنا) اُس پر (کند ذہن یا موٹی زبان ہونے کی وجہ سے) مشکل ہو اُس کے لیے بھی دوگنا اجر ہے۔ جس نے اﷲ تعاليٰ کی کتاب سے ایک حرف پڑھا، اس کے لیے اس کے بدلہ میں ایک نیکی ہے اور یہ ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے۔ ﷲ تعاليٰ نے بندے کو دو رکعتوں سے، جنہیں وہ ادا کرتا ہے، زیادہ فضیلت والی کسی چیز کا حکم نہیں دیا. بندہ جب تک نماز میں رہتاہے، نیکی اُس کے سر پر سایہ فگن رہتی ہے اور بندے کسی عمل سے اتنا قربِ الٰہی نہیں پا سکتے جتنا قرب کلامِ الٰہی یعنی قرآن مجید (کی تلاوت) سے پا سکتے ہیں۔ جس نے قرآن پاک پڑھا اور اس پر عمل بھی کیا اس کے ماں باپ کو قیامت کے دن ایک ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی اس دنیا میں لوگوں کے گھروں میں چمکنے والے سورج کی روشنی سے زیادہ حسین ہو گی۔روزِ قیامت روزہ اور قرآن دونوں بندہ کے لیے شفاعت کریں گے۔ روزہ کہے گا : اے میرے ربّ! میں نے اس شخص کو دن کے وقت کھانے (پینے) اور (دوسری) نفسانی خواہشات سے روکے رکھا سو تو اس شخص کے متعلق میری شفاعت قبول فرما. اور قرآن کہے گا : اے میرے ربّ! میں نے اس شخص کو رات کے وقت جگائے رکھا سو اس کے متعلق میری شفاعت کو قبول فرما. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو ان دونوں کی شفاعت قبول کی جائے گی۔فرمان مصطفی ﷺ ہے کہ، ” بیشک یہ قرآن اﷲ تعاليٰ کا دسترخوان (عطیہ و نعمت) ہے۔ جہاں تک ممکن ہو اس کے دستر خوان میں سے حاصل کر لو. یہ قرآن اﷲ تعاليٰ کی رسی، چمکتا دمکتا نور اور (ہر روگ و پریشانی کا) نفع بخش علاج ہے۔ جو اس پر عمل کرے اس کے لیے (باعثِ) حفاظت اور جو اس کی پیروی کرے اس کے لیے (باعثِ) نجات ہے۔ یہ جھکتا نہیں کہ اس کو کھڑا کرنا پڑے۔ ٹیڑھا نہیں ہوتا کہ اسے سیدھا کرنا پڑے۔ اس کے عجائب (رموز و اسرار، نکات و حِکم) کبھی ختم نہ ہوں گے اور بار بار کثرت سے پڑھتے رہنے سے بھی پرانا نہیں ہوتا (یعنی اس سے دل نہیں بھرتا) اس کی تلاوت کیا کرو کیوں کہ اﷲ تعاليٰ اس کی تلاوت پر تمہیں ہر حرف کے عوض دس نیکیوں کا اجر عطا فرماتا ہے۔ یاد رکھو! میں یہ نہیں کہتا کہ الۤم ایک حرف ہے۔ بلکہ الف (ایک حرف ہے)، لام (ایک حرف ہے) اور میم (ایک حرف ہے گویا صرف الۤم پڑھنے سے ہی تیس نیکیاں مل جاتی ہیں).‘‘قرآن مجید کی فضیلت تمام کلاموں پر ایسے ہی ہے جیسے (خود اس) رحمن کی فضیلت اُس کی تمام مخلوقات پر ہے۔ اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنائو، بے شک شیطان اُس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورہِ بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے۔

ذہانت رو رہی ہے منہ چھپائے
جہالت قہقہے برسا رہی ہے

تاریخ کے بعض سیاہ اوراق ایسے بھی ملتے ہیں جن میں وہ واقعات نقل کئے گئے ہیں جن میں قرآن کی بے حرمتی کی گئی۔ باطل کی کوشش ہمیشہ یہی رہی ہے کہ اپنی پھونکوں سے اس روشن پیغام کو بجھا دیں۔لیکن اس نور کی حفاظت خود رب العالمین کر رہا ہے۔ لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ قرآنِ مجید کی بے حرمتی کرنے سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے اور اس بات پر امت کا اجماع ہے۔ وسیم رضوی کی اس نجس حرکت پر حافظ ابو یحییٰ نور پوری حفظہ اللہ تعالیٰ کا بیان ہے کہ، "منکرین حدیث جو کچھ حدیث کے ساتھ کرتے ہیں، وہی کچھ وسیم مرتد نے قرآن کے ساتھ کرنے کی کوشش کی ہے، یعنی عقل کو رد وقبول کا معیار بنانا۔ اس سے بڑا ارتداد کوئی نہیں ہو سکتا”.ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم زکریا دیوبند کے مہتمم مفتی شریف خان قاسمی نے کہا کہ پوری انسانیت کا عقیدہ اورحقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم ایک سچی کتاب ہے ،اس کا ایک ایک حرف بر حق ہے ،اس میں کوئی ایک لفظ یا ایک حرف بھی تبدیل نہیں کیا جا سکتا ،کسی انسان کے بس میں نہیں ہے کہ وہ قرآن کی آیات میں حذف و اضافہ کرے ،کیونکہ اس کی حفاظت خود اللہ تبارک وتعالیٰ کرنے والا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ جہاں تک 26 آیات کا تعلق ہے ان کے تعلق سے مفسرین کافی کچھ لکھ چکے ہیں ،بار بار اس طرح کے سوالات اٹھانے کا مطلب فتنہ پھیلانا اور مسلمانوں کو ذہنی ا ذیت دینا ہے ۔انہوںنے ایسے لوگوں کی طرف توجہ نہ دی جائے کیونکہ اللہ پاک نے ان لوگوں کی عقل سلب کرلی اور یہ ایمان وانسانیت سے بھڑک گئے ہیں۔ تمام مکاتب فکر کی طرف سے رضوی کے بیان کے مذمت کی گئی یہاں تک کہ شیعہ مکتب فکر کے علماء نے بھی رضوی کی بھرپور مخالفت کی۔جہاں ہمارا ایمان ہے کہ قرآن کی حفاظت اللہ کرنے والا ہے وہیں یہ بات بھی ذہن نشین کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ علماء کو اس فتنے کا تدارک کرنے کے لئے آگے آنا ہوگا اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی تاریخ دہرانی ہوگی۔علماء کے ساتھ ساتھ دانشوروں، غیر مسلم اسکالروں نے بھی اس عرضی کے دائر کرنے پر رد عمل کا اظہار کیا۔ جمیعت اہلحدیث جموں و کشمیر کے صدر محترم شیخ غلام احمد بٹ المدنی و نائب صدر ڈاکٹر عبداللطیف الکندی حفظہ اللہ نے بھی شدید ردود سے رضوی رافضی کا تعاقب کیا۔

دلوں کو فکر دوعالم سے کر دیا آزاد
ترے جنوں کا خدا سلسلہ دراز کرے

خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

رضوی رافضی نے اتنی بڑی جرأت یوں ہی نہ کی، کافر لوگ بھی اس طرح کے بیانات دینے سے کتراتے ہیں، وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں۔ اولاً یہ بھی ممکن ہے کہ وسیم رافضی ذہنی توازن سے محروم ہوچکا ہو۔ کیونکہ سلیم الفطرت انسان ایسے نجس الفاظ زبان پر نہیں لا سکتا۔ ثانیاً یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ بعض منحوس قسم کے لوگ خلافت ثلاثہ کا انکار کرکے صحابہ کرام کی نفرت دل میں بساۓ ہوۓ ہیں۔ ممکن ہے کہ وسیم رافضی بھی انہیں بدترین افراد کا پیروکار ہو جو صحابہ سے عداوت رکھنے کو دین سمجھتے ہیں۔یہودیوں کے حواری اس نفرت کو دل میں لئے ہی تقیہ کرتے ہیں لیکن شاید وسیم رافضی سے رہا نہ گیا اور اعلانیہ اس بغض کو ظاہر کردیا۔یہاں یہ بات واضح رہے کہ صحابہ کی محبت کوئی مسلکی مسلہ نہیں بلکہ ایمانی و اعتقادی مسلہ ہے۔ صحابہ پر تبرا کرنے والے بدترین قسم کے منافق ہیں اور بقول ابن تیمیہ رحمہ اللہ یہودیوں کے گدھے۔ثالثاً بعض منافقین قرآن میں تحریف کے قائل ہیں۔یہ کفر صریح ہے جس نے ان کے ایمان کو تباہ و برباد کردیا ہے۔ رابعاً ایسا بھی ممکن ہے کہ تاریخ کے سیاہ اوراق میں اپنا نام درج رکھنے کے لئے اس زندیق نے طلب شہرت کے لئے ایسا کہا ہو تو یاد رہے یہ شہرت ہی اسکی رسوائی بن جاۓ گی۔ تاریخ کی کتب کا مطالعہ کرکے دیکھ لیں جن نجس افراد نے بھی اللہ سے جنگ کا اعلان کیا وہ کائنات کے لئے نمونہ عبرت بن گئے۔ خامساً یہ وجہ بھی واضح ہے کہ BJP اور RSS کی واہ واہ حاصل کرنے کے لئے اس زندیق نے قرآن پر ایسا تبصرہ کیا ہو۔مرکزی حکومت اول روز سے بھی اسلام دشمن اور مسلمان دشمن اقدام اٹھاتے آرہی ہے، یہی بات RSS نے دو دہایوں قبل کہی تھی اور یہی بات آج رضوی نے کہی۔ سیاسی دنیا میں اپنا نام کمانے کے لئے رب کائنات سے دشمنی مول لینا یقیناً گھاٹے کا سودا ہے۔سادسا یہ بھی نمایاں ہے کہ حصول دولت کے لئے ضمیر فروش انسان کوئی بھی حد تجاوز کر سکتے ہیں۔ وسیم رافضی تو ایمان فروش انسان ہے۔

صبر کی حد بھی تو کچھ ہوتی ہے
کتنا پلکوں پہ سنبھالوں پانی

یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ وسیم رافضی رضوی قرآن پڑھنا بھی نہیں جانتا۔ یہ ایسا زندیق ہے کہ جس نے بابری مسجد منہدم کرنے پر 51,000 روپے بطور ہدیہ RSS کے کھاتے میں ڈالا تھا۔غالب گمان یہی ہے کہ وسیم رافضی وجود باری تعالیٰ کا منکر ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا و سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں مذکورہ زندیق نے وقت وقت پر ناشائستہ الفاظ استعمال کئے۔جس سے واضح ہوتا ہے کہ تاریخ اسلام پر بھی اسکی نظر نہیں۔یہ شخص نہایت بے ہودہ قسم کا ان پڑھ اور جاہل انسان ہے۔اس کی جنم کنڈلی دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صاحب رفض و عداوت پر CBI نے corruption کے مقدمات بھی درج کردئیے ہیں۔خود حرام دولت پر پلنے والا بے غیرت ایسے تبصرے کرے تو کوئی حیران کن بات نہیں کیونکہ روپیہ اور پیسہ ہی ان کا خدا ہوتا ہے۔وسیم رافضی ایک film maker ہے جس نے RAM KI JANMBHOOMI کے نام سے اپنے ہندو بھائیوں کو خوش کرنے کے لئے ایک movie بھی بنائی۔ وسیم رافضی اور ان کے امن دشمن حواریوں کے لئے نبی کریم ﷺ نے بہت پہلے فرمایا تھا، "بلاشبہ یہ (ایمان اور اللہ پر) یقین کی کمزوری کی علامات ہیں کہ تو اللہ کی ناراضی مول لے کر لوگوں کو خوش کرے۔ اور اللہ نے جو رزق لوگوں کو دے رکھا ہے اس پر تو ان کی مدح و ستائش کرے اور جو رزق اللہ نے (لوگوں کو دیا ہے لیکن) تجھے نہیں دیا اس پر تو ان کی مذمت کرے۔ یقیناً اللہ تعالی کے رزق کو نہ کسی حریص کا حرص کھینچ کر لا سکتا ہے اور نہ کسی ناپسند کرنے والے کی ناپسندیدگی اسے روک سکتی ہے۔ "(شعب الایمان) نیز فرمایا،”جو شخص لوگوں کو ناراض کر کے اللہ تعالی کو راضی رکھے، اللہ تعالی اس سے راضی ہو جاتا ہے اور جو شخص اللہ تعالی کو ناراض کر کے لوگوں کی رضا کا طالب ہو، اللہ تعالی بھی اس سے ناراض ہو جاتا ہے اور لوگوں کو بھی اس سے ناراض کر دیتا ہے”.(جامع ترمذی)

گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا

راقم وسیم رافضی رضوی تک اس بات کو پہنچانا چاہتا ہے کہ راقم ایک ادنیٰ درجہ کا طالب علم ہے لیکن اس بہتان تراشی پر مباہلے کے لئے تیار ہے۔اسلام دین امت و دین رحمت ہے۔ جہاد کو دہشتگردی کا نام دینا سورج کو شمع دکھانے کے مترادف ہے۔ آسمان پر تھوک مارو گے تو اپنے ہی چہرے پر لوٹ آۓ گی۔ چونکہ وسیم رضوی قرآنی نصوص و قرآنی علوم سے جاہل ہے، اسے دعوت فکر دیتا ہوں کہ کسی جید عالم کے پاس قرآن کو مع تفسیر مطالعہ کریں۔وقت رہتے اللہ کے دربار میں علانیہ توبہ کر اور اپنے کفریانہ مؤقف سے رجوع کر۔ اسلام انسانی حقوق کا ضامن و محافظ ہے۔ اسلام نے جمادات، نباتات، حیوانات تک کے حقوق کائنات کے سامنے عملی کردار میں پیش کئے۔وسیم رافضی کی دھاندلیوں سے اسلام کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔البتہ وسیم رافضی کی دنیا و عقبیٰ برباد ضرور ہوجاۓ گی۔ يہ بات صاف واضح ہے كہ اسلام نے حقوق كى عطائيگى، احترام اور نفاذ كو ہر طرح كے جنسى ، نسلى، طبقاتى امتياز سے بالاتر قرار ديا، اور” ولقد كرمنا بنى آدم” كے آفاقى ضابطے كے تحت احترام آدميت كو ہى اولين بنياد بنايا ہے جس كى مثال بھى دوسرى تہذيب يا قوم كے ہاں نہيں مل سكتى۔ فرمان ربانی ہے کہ، "اسی سبب سے، ہم نے بنی اسرائیل پر لکھا کہ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے کے بٍغیر یا زمین میں فساد (روکنے) کے علاوہ قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا، اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کی زندگی بخشی، اور ہمارے رسول ان کے پاس کھلے حکم لا چکے ہیں پھر بھی ان میں بہت سے لوگ اس کے بعد بھی زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں”.(سورۃ المائدہ) وسیم رافضی!! پیغمبر اسلام پیغمبر ِامن ہیں اور ان کا لایا ہوا دین، دینِ امن ہے۔ نبی رحمت کی حیات طیبہ، صبر وبرداشت، عفو ودرگذر اور رواداری سے عبارت ہے۔ دین اسلام زندگی کے ہر شعبہ میں ہماری مکمل راہنمائی کرتا ہے۔ وه ہمیں امن اور سلامتی کا ’’درس‘‘ دیتا ہے۔اسلام نے ہمیشہ محبت و اخوت اور اعتدال وتوازن کا درس دیا ہے۔جبکہ انتہا پسندی دين اسلامى كى تعليمات بالكل منافى ہے۔ اس لفظ يا اصطلاح كى اسلام ميں كوئى گنجائيش نہيں۔ بلکہ یہ دین کی حقیقی تعلیمات، اسلام کے پیغام امن وسلامتی اور پیغمبر رحمت، محسن انسانیت کے اسوۂ حسنہ کے بالکل منافی ہے۔فرمان باری تعالیٰ یے کہ”آخر وجہ کیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پا کر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں، اوراپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مدد گار پیدا کر دے۔ جن لوگوں نے ایمان کا راستہ اختیار کیا ہے، وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ہے، وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں، پس شیطان کے ساتھیوں سے لڑو اور یقین جانو کہ شیطان کی چالیں حقیقت میں نہایت کمزور ہیں۔“(سورہ النساء) یہ ہے جہاد اسلام کا مفہوم۔

تیغ بکف جب لوگ تھے ایسے عالم میں
میرے ہاتھ سے صرف قلم وابستہ تھا​

اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وسیم رافضی رضوی اور ان کے حواریوں کو ہدایت سے صحیح راہ پر گامزن کرے۔ اللہ اسلام دشمنوں کو اپنے مکر و فریب میں ناکام کرے۔۔۔ آمین یا رب العالمین۔

میرے ہاتھ میں قلم ہے میرے ذہن میں اُجالا​
مجھے کب ڈراسکے گا کوئی ظلمتوں کا پالا​
مجھ فکرامنِ عالم تجھے اپنی ذات کا غم​
میں طلوع ہورہا ہوں تو غروب ہونے والا​

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button