نظم

نظم: اسلام پہ ہم آنچ بھی آنے نہیں دیں گے

نتیجۂ فکر: محمد جیش خان نوری امجدی، مہراج گنج یوپی

اسلام پہ ہم آنچ بھی آنے نہیں دیں گے
سر ایک بھی ظالم کا  اٹھانے نہیں دیں گے

جیلوں میں بھرو یا کہ ہمیں ماردو لیکن
اک نقطۂ قرآں بھی ہٹانے نہیں دیں گے

ہم دین نبی کے لئے مرجائیں گے واللہ
قرآن کا اک حرف مٹانے نہیں دیں گے

ہم عظمت قرآن پہ کر گزریں گے سب کچھ
دشمن کو زباں اس پہ ہلانے نہیں دیں گے

یہ محفلِ سرکار ہے بس ان کی ثنا کر
ہم تجھ کو یہاں ڈھول بجانے نہیں دیں گے

اسلام کی جو کرتا ہے دن رات برائی
اس کو تو کبھی پاس بھی آنے نہیں دیں گے

ہم عاشق خواجہ ہیں سبھی لوگ یہ سن لیں
ہم دین کی عظمت کو گھٹانے نہیں دیں گے

ہے عزم ہمارا  یہی دنیا میں اے نوری
ہنستے ہوئے لوگوں کو رلانے نہیں دیں گے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے