نظم

نظم: احساں بریلی کا

نتیجۂ فکر: سلمان رضا فریدی مصباحی، مسقط عمان

مخالف غمزدہ ہے اور مُحِب شاداں بریلی کا
مسلسل تاب پر ہے جلوۂ عرفاں بریلی کا

اندھیروں سے کہو ، اُن کی رسائ ہو نہیں سکتی
رضا کا فیض ہے آٹھوں پہر نگراں بریلی کا

کوئ نوری ، کوئ اختر ، ہمیشہ ہے تجلی پر
چراغِ علم سے خالی نہیں ایواں بریلی کا

نبی کا عشق دے کر ، بد عقیدوں سے بچایا ہے
یقینا اہل حق پر ہے بہت احساں بریلی کا

کھڑا ہے شان سے عشقِ رسالت کا عَلَم لے کر
عقیدے کا تحفُّظ ہے سدا عنواں بریلی کا

ہوئے اِس کی جلن میں خشک ، کتنے ہی گل و گلشن
مگر اب بھی چمن ہے شان سے خنداں بریلی کا

حسد سے ہوگیے مقبول بھی مردود کی صف میں
وفا میں ذرہ بھی ہے نَیَّرِ تاباں، بریلی کا

فریدی آبروے حق ہے اِس گلزار کی خوشبو
محبت کرنے والا ہے سدا نازاں بریلی کا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے