نعت : تری رحمتوں کا ہردم شہ دیں حصار آے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

رشحات قلم : محمد شعیب اختر قادری دھرم سنگھوا

مرے عشق کے چمن میں مرے رب بہار آۓ
شہ دیں کے خادموں میں، مرا بھی شمار آۓ

غمِ مصطفیٰ ہو مولیٰ مرے قلب پر مسلط
مجھے ہجر مصطفیٰ میں نہ کبھی قرار آۓ

اُسے بھائیں کیسے دنیا!یہ ترے حسیں نظارے
درِ پاک مصطفیٰ کو جو بشر نہار آۓ

ترا در درِ خدا ہے تو حبیبِ کبریا ہے
ترے در پہ ہر فرشتہ تبھی بار بار آۓ

تجھے کل جہاں کا قاسم ترے رب نے ہے بنایا
"ترے در پہ بھیک لینے سبھی شہر یار آۓ”

ترےمیکدےسےنسبت ہوئی جب سے مجھکو ساقی
مری آنکھ میں مکرر ترا ہی خمار آۓ

رخ سید دو عالم مرے روبرو رہے بس
مرے رب دو جہاں جب دم احتضار آۓ

ترا در ہو جانِ جاناں مرا سر ہو جانِ جاناں
مری زیست میں یہ موقع شہا بار بار آۓ

مجھے جب ستاۓ دنیا مجھے جب رلاۓ دنیا
تری رحمتوں کا ہر دم شہ دیں حصار آۓ

نہیں جن کا کوئی ماویٰ نہیں جن کاکوئی ملجا
مرے رحمت دو عالم تمہیں ان پہ پیار آۓ

مجھے فکر کس لئے ہو بھلا حشر کے غموں کا
جب برائے غمگساری مرے غمگسار آۓ

کچھ اشارہ کیجئےنا!مرے اچھےاعلی حضرت
مرے فن شاعری میں بھی ذرا نکھار آۓ

درِ مصطفیٰ پہ جاؤں اسی در پہ سر جھکاؤں
ذرا نجدی تو بتا تو تجھے کیوں بخار آۓ

ترے ہجر کا الم ہو اسی غم میں آنکھ نم ہو
مرے قلبِ مضطرب کو نہ کبھی قرار آۓ

کریں نازاس کی قسمت پہ فرشتے حوروغلماں
درِ مصطفیٰ پہ اختر دل و جاں جو وار آۓ

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

نعت : کتنا شیریں نبی کا لہجہ ہے

از : عبدالمبین حاتم فیضی چشمِ افلاک کا وہ تارا ہےجو مرے مصطفیٰ کا روضہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔