نعت رسول

نعت: ترے در پہ بھیک لینے سبھی شہر یار آئے

مرے عشق کے چمن میں مرے رب بہار آۓ
شہ دیں کے خادموں میں، مرا بھی شمار آۓ

غمِ مصطفیٰ ہو مولیٰ مرے قلب پر مسلط
مجھے ہجر مصطفیٰ میں نہ کبھی قرار آۓ

اُسے بھائیں کیسے دنیا!یہ ترے حسیں نظارے
درِ پاک مصطفیٰ کو جو بشر نہار آۓ

ترا در درِ خدا ہے تو حبیبِ کبریا ہے
ترے در پہ ہر فرشتہ تبھی بار بار آئے

تجھے کل جہاں کا قاسم ترے رب نے ہے بنایا
"ترے در پہ بھیک لینے سبھی شہر یار آئے”

ترےمیکدےسےنسبت ہوئی جب سے مجھکو ساقی
مری آنکھ میں مکرر ترا ہی خمار آئے

رخ سید دو عالم مرے روبرو رہے بس
مرے رب دو جہاں جب دم احتضار آئے

ترا در ہو جانِ جاناں مرا سر ہو جانِ جاناں
مری زیست میں یہ موقع شہا بار بار آئے

مجھے جب ستاۓ دنیا مجھے جب رلاۓ دنیا
تری رحمتوں کا ہر دم شہ دیں حصار آۓ

نہیں جن کا کوئی ماویٰ نہیں جن کاکوئی ملجا
مرے رحمت دو عالم تمہیں ان پہ پیار آۓ

مجھے فکر کس لئے ہو بھلا حشر کے غموں کا
جب برائے غمگساری مرے غمگسار آۓ

کچھ اشارہ کیجئےنا!مرے اچھےاعلی حضرت
مرے فن شاعری میں بھی ذرا نکھار آۓ

درِ مصطفیٰ پہ جاؤں اسی در پہ سر جھکاؤں
ذرا نجدی تو بتا تو تجھے کیوں بخار آۓ

ترے ہجر کا الم ہو اسی غم میں آنکھ نم ہو
مرے قلبِ مضطرب کو نہ کبھی قرار آۓ

کریں نازاس کی قسمت پہ فرشتے حوروغلماں
درِ مصطفیٰ پہ اختر دل و جاں جو وار آۓ

رشحات قلم : محمد شعیب اختر قادری دھرم سنگھوا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے