نتیجۂ فکر: سلمان رضا فریدی مصباحی، مسقط عمان
کیسے کرپائے کوئی، منظر کَشی معراج کـی
ہے تصور سے فُزُوں ہر اک گھڑی معراج کی
میرِ محفل رب تعالیٰ ، شمعِ محفل مصطفیٰ
لامکاں میں انجمن ایسی سجی معراج کی
عشق سے دیکھو تو ایمانی نظر ہوجائے تیز
پڑھ رہی ہے ہر جھلک نعتِ نبی، معراج کی
رفعت و عظمت میں شاہِ دیں کا ہمسر کون ہے
آج بھی آواز ہے یہ گونجتی معراج کی
سو گئ اِس رات ، چشمِ گردشِ کونین بھی
دہر میں ساعت رہی بس جاگتی معراج کی
چاند ، سورج کو ملا تھا پاؤں چھونے کا شَرَف
بانٹتے ہیں آج تک وہ ، روشنی معراج کی
بندگی کا اک حسیں تحفہ ملا اِس رات میں
اہلِ ایماں پر نوازش ہے بڑی، معراج کی
قربِ مولیٰ چاہتے ہو تو پڑھو دائم نماز
مومنو ! ہے یہ عبادت نسبتی معراج کی
رب کے آگے سرجھکانا، رفعتوں کا ہے سفر
پنجوقتہ ملتی ہے لذت، نئ معراج کی
آسمانوں کے سفر کی سوچ یوں پیدا ہوئ
آج دنیا کر رہی ہے ، پیروی معراج کی
بن گیا یہ معجزہ ، اک مِشعلِ اوج و کمال
رفعتِ فکر و نظر ہے آگہی معراج کی
ہر برس ، آکر برستے ہیں اُسی پَل کے سحاب
کِشتِ جاں سیراب کرتی ہے ندی معراج کی
اِس لیے بادل کا پانی اب تلک سوکھا نہیں
موسمِ افلاک نے پائ نمی معراج کی
"رَبِّ اَرنی” کی طلب، اِس رات میں پوری ہوئ
چشمِ موسیٰ کو ملی یوں روشنی معراج کی
مسجدِ اقصٰی کی وہ پُرکیف محفل دیکھیے
انبیا نے بھی منائی ہے خوشی معراج کی
گُلشنِ ہستی ہے تازہ ہر نبی کا تا ابد
اِس پہ شاہد ہے نمازِ موسوی معراج کی
عشق والے، جی اٹھے اِس معجزے کو مان کر
ہر غلامِ عقل پر بجلی گری معراج کی
جب وہاں جاہی نہیں سکتے پرندے عقل کے
کیسے سمجھیں گےحقیقت ، فلسفی معراج کی
یا الٰہی مُتّحد ہوجائیں سب اہلِ سُنن
باغِ دل پائے، بہارِ دوستی معراج کی
وقت سے کہدو ٹھہر کر سن لے ذکر مصطفیٰ
ہے فریدی کے لبوں پر بات ابھی معراج کی