نظم : نفس کا دیوتا

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

از قلم : شیبا کوثر

یہ جو ہے !
رو پ بدلنے میں ہے ماہر
اکثر جس کو دیکھ کر
آنکھیں ٹھنڈ ی ہوتی تھیں
امید کی کرنیں جاگ اٹھتی تھیں
رات میں اسکو کالا ناگ
دھیرے سے ڈس جاتا ہے
رگ رگ میں بس جاتا ہے
پھیلنے لگتا ہے زہر آہستہ آہستہ
سارے جسم و جان میں
پھر مدہوشی کے عالَم میں
سارے بندھن ٹوٹ گئے
اور موج کی لہریں غرق کر دیتی ہے
کھیتوں اور کھلیا نوں کو
ختم ہو جاتی ہے ساری فصلیں
دور کھڑا کسان
ہاتھوں کو ملتا رہتا ہے
غم میں گھلتا رہتا ہے
پھر آنکھوں سے اس کے
اشکوں کی بارش خوب ہوئی
اگلے موسم تک
صرف دوب ہی دوب ہوئی۔۔۔۔!!

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

ماں کی شان

اہلِ مغرب کی روایتوں میں ایک دن ماں کے نام مخصوص ہے ، یعنی حیات …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔