سیاست و حالات حاضرہ

انڈین مسلم اور حالاتِ حاضرہ(6)

تحریر: محمد عباس الازہری

ملک میں مسلمانوں کے حوالے سے انسانیت دھیرے دھیرے نچلی سطح پر پہنچ رہی ہے , اہل وطن کی اخلاقی قدریں مٹ رہی ہیں، اور یہاں کے انسان انسانیت کے مقام و مرتبہ کو چھوڑ کر حیوانیت اور درندگی کے آخری مقام پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور مزید برآں جنگل راج اور لاقانونیت کا ماحول بنانے کی کوشش کرتے ہوئے "جس کی لاٹھی اس کی بھینس” پر عمل ہو رہا ہے قانون اور ضابطہ پر عمل صرف مسلمانوں کے لیے لازم قرار دے دیا گیا ہے بقیہ کو اکثریت یا ووٹ بینک کی وجہ سے مستثنی کیا جا رہا ہے, مسلم کی ماب لنچنگ ہو یا پولیس کی حراست میں مسلم کی موت ہو ہرجگہ لیپا پوتی کا کھیل کھیلا جا رہا ہے جیسے لگتا ہے مسلمانوں کی جان و مال ,عزت و آبرو اور دین و مذہب کی کوئی وقعت و حیثیت نہیں ہے اور یہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں !آج خیرِ امت یعنی مسلمانوں کے ایسے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے اور موجودہ صورت حال دل و دماغ کو چھلنی کر رہی ہے اور شر پسند عناصر گھات لگا کر مسلمانوں کو جانوروں سے بھی بدتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور بے چینی اور بے قراری ہر جگہ اپنا اثر دکھا رہی ہے,اور کہیں سے بھی اتحاد ، اتفاق اور رواداری کے پھول اور اسکی خوشبو محسوس نہیں ہو رہی ہے, شر پسند عناصر کے ذہن و دماغ میں مسلم دشمنی کا ایسا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے جس کو مٹانے کے لیے بہت زیادہ محنت اور حکمت و دانائی ,تحمل و بردباری اور رواداری کی ضرورت ہے,آج جو صورتحال مسلمانوں کو درپیش ہے راقم کا ماننا ہے کہ اس کو نفرت سے ختم نہیں کیا جا سکتا ہے بلکہ بزرگانِ دین کی سوانح و احوال کا مطالعہ کرنے کی سخت حاجت ہے کیونکہ ان کی زندگی سے پتہ چلے گا کہ خراب حالات میں اہلِ وطن کے ساتھ ان کا برتاؤ ,سلوک اور تعامل کیسا تھا؟ اور جس طرح شر پسند عناصر مسلمانوں کے وسائل پر قابض ہونے کے لئے سازشوں کے تانے بانے بن رہے ہیں ان کو کمزور اور تنہا کرنے میں پہلے پس پردہ مصروف تھے اور اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں ہیں اور وہ اپنے عزائم و منصوبے میں کافی حد تک کامیاب نظر آ رہے ہیں ,اسی رفتار سے محبت ,امن اور بزرگانِ دین کے طریقہ کار کی ترویج و اشاعت پر عمل کرنا وقت کا اہم تقاضہ ہے , اور ڈاکٹر اقبال علیہ الرحمہ نے
"نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر”
کے ذریعے جن مسلمانوں کو "فلسفہ خودی” سے روشناس کراتے ہوئے اور بالخصوص مسلم نوجوانوں کو "شاہین” کا لقب دے کر انہیں ان کے اصل مقصد سے روشناس کرایا تھا اب اقبال کے شاہین کو خود مسلم لڑکیاں ہی پسند نہیں کر رہی ہیں اور غیر مسلموں کے ساتھ بھاگ کر شادی کر رہی ہیں یہ بہت ہی شرم و عار کی بات ہے اور چلو بھر پانی میں ڈوب مرجانے کے لائق ہے اور اقبال کے شاہین کی اکثریت گیم ,تاش ,جوا وغیرہ کھیلنے میں مصروف ہے! اقبال کے شاہین کی اکثریت ,بے حیائی ,برائی , عیاشی اور بے مقصد زندگی گزار رہی ہے ,تعلیم و تربیت ,علم و ہنر ,تہذیب و تمدن سے کوسوں دور بھاگ رہی ہے , نا انصافی و نا اتفاقی,اختلاف و انتشار وغیرہ میں پیش پیش ہے ,الا ماشاء اللہ تعالی !مکمل اتفاق و اتحاد کا فقدان ہے ,خود غرضی ,تکبر ,انانیت ,حسد ,نفرت وغیرہ عروج پر ہے, بحیثیت ایک قوم اکٹھے نہیں ہو سکتے ہیں اور نہ ہی متحد ہو سکتے ہیں , کاش یہ ایک ہو جائیں اور پھر سے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں۔ جاری۔۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے