خانوادۂ رضا

مختصروجامع مدل ومفصل سوانح اعلیٰ حضرت

تحریر:محمد توحید رضا علیمی
امام مسجدِ رسول اللہ ﷺ مہتمم دارالعلوم حضرت نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ نوری فاؤ نڈیشن بنگلور کرناٹک انڈیا
رابطہ 9886402786:

بسم اللہ خوانی ومجددکی زندگی کے کمالات
دنیائے اسلام کا عظیم المرتبت تاجدار جس نے اجڑے ہوئے گلستاں کو نئی زندگی دی جس نے اپنی شیریں بیانی سے بچھڑے لوگوں کو قریب کیا جس نے گلشنِ عظمتِ مصطفیٰ ﷺ کو ہرا بھرا بنایا جس نے بارگاہِ احدیت کی عزمت و حرمت کا ڈنکاپوری دنیا میں بجایا ،جس نے بڑے بڑے فلاسفروں کو اپنے خداداد علوم کی تابناک شعاعوں سے چکاچوندھ کردیا جس نے شریعتِ مقدسہ کی اتباع اور دینِ حق کی خدمت میں پوری زندگی گذاردی جس کو دنیا اعلیٰ حضرت امام احمدرضا فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے یاد کرتی ہے(سوانح اعلیٰ حضرت ص ۴۱)
اللہ پاک جن سے دین کا کام لینے والا ہوتا ہے ان کو دین کی کامل سمجھ عطاکرکے انکے دلوں میں ایمان نقش فرماکر ان کی مدد فرماتاہے، قرآنِ مقدس میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا اولٰئک کتب فی قلوبھم الایمان وایدھم بروح منہ(سورہ مجادلہ آیت ۲۲)یہ ہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں اللہ نے ایما ن نقش فرمادیاہے اور اپنی طرف کی روح سے انکی مدد فرمائی ہے
اعلیٰ حضرت کہاں پیدا ہوئے
اعلیٰ حضرت مجددِ دین و ملت امام احمد رضا ۱۰ شوال ۱۲۷۲ھ مطابق ۱۴ جون ۱۸۵۶ء کو اترپردیش کے شہر بریلی میں ایک دینی و علمی گھرانے کے اندر پیدا ہوئے
اعلیٰ حضرت چودھویں صدی کے مجدد ہیں
صحیح حدیث شریف میں حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا ان اللہ یَبعَثُ لھٰذِہ الاُمۃِ عَلیٰ رَاسِ کُل مائۃِ سَنَۃِِِمَن مجددلھا دینھا(ابودائود شریف جلد ثانی ص ۲۴۱) یعنی ہرصدی کے ختم پر اس امت کے لئے اللہ تعالیٰ ایک مجددضرور بھیجے گا جو امت کے لئے اس کا دین تازہ کردے
علمائے اسلام نے بیان کیا ہے کہ مجدد کے لئے ضروری ہے کہ ایک صدی کے آخر اور دوسری صدی کے اول میں اس کے علم و فضل کی شہرت رہی ہو ،اس اعتبار سے اعلیٰ حضرت چودھویں صدی کے مجدد ہیں آپ کی ولادت ۱۰ شوال ۱۲۷۲ھ میں اور آپ کا وصال ۲۵ صفر المظفر ۱۳۴۰ھ میں ہوا آپ نے تیرھویں صدی کا ۲۸ سال دو مہینہ بیس دن پایا جس میں آپ کے علوم و فنون درس وتدریس تالیف وتصنیف وعظ وتقریر کا شہرہ ہندوستان سے عرب تک پہنچااور چودہویں صدی کا انتالیس سال ایک مہینہ ۲۵ دن پایا جس میں حمایتِ دین نکایت مفسدین احقاقِ حق وازہاقِ باطل اعانت سنت واماتتِ بدعت کے فرائض ِ منصبی کو کچھ ایسی خوبی اور کما ل کے ساتھ آپ نے انجام دیا جو آپ کے عظیم المرتبت مجدد ہونے پر شاہد عدل ہے ۔
بسم اللہ خوانی ومجددکی زندگی کے کمالات
اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت نے بسم اللہ خوانی ہی کے دن استاذسے الف با تا پڑھتے ہوئے لا پر اعتراضات کئے
اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت نے چارسال کی عمر میں ناظرہ قرآن ختم کیا
اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت کی عمر ۶ سال کی ہوئی تو اعلیٰ حضرت نے فصیح عربی میں گفتگو کی
اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت کی عمر ۸ سال کی ہوئی تو آپ نے فنِ نحو کی ھدایت النحو نامی درسی کتاب پڑھنے کے دوران ہی عربی زبان میں اس کی شرح لکھی
اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت ۱۰ سال کی عمر میں اصولِ فقہ کی نہایت معرکۃ الآرا حضرت محب اللہ بہاری کی کتاب مسلم الثبوت کی بسیط شرح تصنیف فرمائی
اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت ۱۳ سال ۱۰ ماہ ۵ دن کی عمر میں تمام علومِ مروجہ درسیہ سے فراغت حاصل کرکے باقاعدہ تدریس کا آغاز کیا اور منصبِ افتا کی ذمہ داری سنبھال لی
اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت ۲۲ سال کی عمر میں بیت وخلافت سے مشرف ہوئے
اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت ۱۳۱۸ھ مطابق ۱۹۰۰ ء کو پٹنہ کے تاریخ ساز اجلاس کے اندر غیرمنقسم ہندوستان کے سیکڑوں علماء ومشائخ اور خانقاہوں کے سجادہ نشیں حضرات کی موجودگی میں مجددمائۃ حاضرہ(موجودہ صدی کا مجدد)کے خطاب سے سرفراز ہوئے
اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت کو۱۳۲۴ھ مطابق ۱۹۰۲ء میں مکہ معظمہ ومدینہ منورہ اور دوسرے ممالک کے علماء و مشائخ نے بھی آپ کی مجددیت کا برملا اعتراف کیا اور آپ کو امام الائمہ کے لقب سے یادکیا
۱۳۳۰ ھ مطابق ۱۹۱۱ ء کو اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت نے قرآنِ کریم کا اردو زبان میں صحیح ترجمہ کیاجس کا نام کنزالایمان ہے
اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت نے بارہ جلدوں میں فقہ ِ اسلامی کا عظیم انسا ئیکلوپیڈیا فتاویٰ رضویہ عالمِ اسلام کو عطاکیا ۔ دورے حاضر میں فتاویٰ رضویہ کی تیس جلدیں موجودہیں
اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت مسلم یونیور سٹی علی گڑھ کے وائس چانسلر ماہرِ ریاضیات پروفیسر ضیاء الدین کے سوالوں کو حل فرمایا جس کے اعتراف میں ان کو یہ کہنے پر مجبور ہونا پڑا کہ نوبل انعام کی مستحق تو درحقیقت یہ ہستی ہے
اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت کا ملی و قومی اثاثے میں ستھرہ دین ،پاکیزہ معاشرہ ،پچاس سے زائد قدیم وجدید علوم و فنون پر مشتمل مختلف زبانوں میں ایک ہزار سے زائد تصنیفات موجود ہیں

                         اعلیٰ حضرت کی ذہانت

اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت خود فرماتے تھے کہ میرے استاذ جن سے میں ابتدائی کتاب پڑھتا تھا جب مجھے سبق پڑھادیا کرتے ،میں ایک دومرتبہ کتاب دیکھ کر بند کردیتا ، جب استاذسبق سنتے تو حرف بحرف لفظ بہ لفظ سنادے تا ،روزانہ یہ حالت دیکھ کر تعجب کرتے ،ایک دن مجھ سے فرمانے لگے کہ احمد میاں ـیہ تو کہو تم آدمی ہو یا جن؟ کہ مجھ کو پڑھاتے دیر لگتی ہے مگر تم کو یاد کرنے دیر نہیں لگتی یہ اعلیٰ حضرت کی خداداد قوتِ حافظہ کا کمال ہے ،قوتِ حافظہ بھی ایسا کہ رمضان شریف کے چنڈ گھنٹوں میں مکمل حافظِ قرآن بن گئے
دومرتبہ اعلیٰ حضرت نے حج وزیارت سے مشرف ہوئے
۱۲۹۵ھ میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا اپنے والد ماجد کے ساتھ زیارتِ حرمین طیبین سے شرفِ افتخار وامتیاز حاصل کی ۔جب آپ دوسری مرتبہ حج کے لئے پہنچے اور دوسری مرتبہ زیارتِ نبوی ﷺ کے لئے مدینہ طیبہ حاضر ہوئے ،شوقِ دیدار میں روضہ شریف کے مواجہ میں درود شریف پڑھتے رہے یقین کیاکہ ضرور سرکارِ ابدِ قرار عزت افزائی فرمائیں گے ایک غزل لکھی
وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں ،جب قسمت جاگ اٹھی اور چشمِ سر سے بیداری میں زیارتِ حضور اقدس ﷺ سے مشرف ہوئے تو ارشاد فرمایا
توزندہ ہے واللہ توزندہ ہے واللہ ۔میری چشمِ عالم سے چھپ جانے والے

                          اعلیٰ حضرت کے فتاویٰ 

آپ تیرہ سال دس مہینہ کی عمر ہی میں فارغ التحصیل ہوئے اور اسی دن سے فتوویٰ دینا شروع کردیا اور یہ سلسلہ عمر شریف کے آخری حصہ تک جاری رہا
اعلیٰ حضرت کی تصانیف
اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت کی تصانیف میں یوں تو ہزار سے زیادہ تصانیف ہیں لیکن فتاویٰ رضویہ لے لیں تو عالمِ اسلام اس کی نظیر نہیں پیش کرسکتا اس کا پورا نام العطایا النبویۃ فی الفتاویٰ الرضویہ ہے (سیرتِ اعلیٰ حضرت ص۶۵)
اعلیٰ حضرت کا یقین وعشقِ کامل
اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت نبی حضورِ اکرم ﷺ سے بے انتہا محبت کرتے ایسی محبت کہ اعلیٰ حضرت نے کہا بحمداللہ ، اگر میرے دل کے دو ٹکڑے کئے جائیں تو خداکی قسم ایک پر لکھا ہوگا لاالہ الا اللہ دوسرے پر لکھا ہوگا محمد رسول اللہ( حیاتِ اعلیٰ حضرت ص ۱۰۴)
الدولۃ المکیۃ
اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت امام احمد رضافاضلِ بریلوی نے علومِ غیبیہ پر معرکہ آرا کتاب ،الدولۃ المکیۃ، کو شریف مکہ کی درخواست پر حالتِ بخار میں صرف سات گھنٹے میں تصنیف فرمائی اور ڈیڑھ گھنٹہ میں نظر فرماکر ساڑھے آٹھ گھنٹوں میں مکمل کردی
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہوبھلا،جب نہ خداہی چھپا تم پہ کروڑوں دُرود
ادب و شاعری
شاعری ایسا فن ہے کہ اکثر علمائے سلف نے اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہ کی اعلیٰ حضرت امامِ عشق ومحبت کو اس طرف عشقِ سرکارِ رسالت نے کھینچا تو انہوں نے سرکارِ دوجہاں ﷺ کی نعت پاک کے ایسے پیارے گیت گائے کہ سامعین کی دنیا تڑپ تڑپ گئی اور اپنی گیتوں سے نعت گوئی کا مُلک میں عام رواج ہوگیا اعلیٰ حضرت کی مشہور نعتیہ کتاب حدائقِ بخشش ہے ۔آج بھی اعلیٰ حضرت امام ِ احمد رضارحمۃ اللہ علیہ کا لکھا ہوا سلام مصطفی جانے رحمت پہ لاکھوں سلام ،اور کعبہ کے بدرالدجیٰ تم پہ کروڑوں دُرود اکثر مساجد میں بعدِ فجر بعدِ جمعہ اختتامِ اسلامی محافل پڑھا جاتا ہے اور مقبولِ عام ہے ،اعلیٰ حضرت کے فتاویٰ کو پڑھنا سمجھنا سب کے بس کی بات نہیں اس لیے سید محمد اشرف میاں قادری نے کہا
منارِ قصرِ رضا تو بلند کافی ہے ۔تم اس کے پہلے ہی زینے پہ چڑھ کے دکھلادو
فتاویٰ رضویہ تو ایک کرامت ہے ذراحدائقِ بخشش ہی پڑھ کے دکھلادو
ڈاکٹر اقبال نے کہااعلیٰ حضرت اپنے دور کے امامِ ابو حنیفہ تھے
شاعرِ مشرق ڈاکٹر اقبال نے کہا ہندوستان کے دورِ آخر میں اعلیٰحضرت رحمۃ اللہ علیہ جیسا طباع وذہین فقیہہ پیدا نہیں ہوا ،میں نے انکے فتویٰ کے مطالعہ سے یہ رائے قائم کی ہے اور ان کے فتویٰ انکی ذہانت فطانت جودت طبع ،کمال فقاہت ،علوم دینیہ میں تبحر علمی کے شاہد عادل ہیں ۔مولانا ایک دفعہ جو رائے قائم کرلے تے ہیں اس پر مضبوطی سے قائم رہتے ہیں ،انہیں اپنے شرعی فیصلوں اور فتاویٰ میں کبھی کسی تبدیلی یا رجوع کی ضرورت نہیں پڑتی ،امام احمد رضا گویا اپنے دور کے امام ِ ابو حنیفہ تھے ،(مقالاتِ یومِ رضا از ،علامہ عبدالنبی کوکب حصہ سوم ۱۹۷۱ء ص ۸ ماہنامہ عرفات (لاہور) اپریل ۱۹۷۰ء ص۲۷ آسمان علم کا ایک درخشاں ستارہ ،از،محمد صدیق اکبر )
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے ۲۵ صفرالمضفر ۱۳۴۰ھ مطابق ۲۸ اکتوبر ۱۹۲۱ء کو جمعہ کے دن دو بج کر ۳۸ منٹ پر عین آذان جمعہ میں اُدھر حی علی الفلاح کی پکار سُنی اِدھر روح قفصِ عنصری سے پرواز کرگئی ۔آج بھی ہرجگہ محفلِ عرسِ اعلیٰ حضرت منعقد کرکہ اعلیٰ حضرت کی سوانح بیان کی جاتی ہے کے احمد رضا خوفِ خدا و عشقِ رسول سے لبریز،اورشریعتِ مصطفی پر عمل پیرا ہوکرفرائض سنن و نوافل پرپابندی کے ساتھ عمل کرتے ، (سوانح اعلیٰ حضرت ص ۳۸۸)

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button