نظم

معراج مومنوں کے لئے کی گئی نماز

جو بھی عمیقِ دل سےپڑھے واقعی نماز
کر کے ہی چھوڑتی ہے اُسے متقی نماز

بے رغبتی سے پڑھتا ہو جو سرسری نماز
کیسے عطا کرے گی اسے چاشنی نماز

شبیر آپ نے جو پڑھی آخری نماز
ایسی نہیں کسی سے ادا ہو سکی نماز

بس اہمیت نماز کی آپ ان سے پوچھئے
جنکی قضا ہوئی نہیں اک وقت کی نماز

وہ تھی نمازِ عشق جو اصحاب نے پڑھی
پڑھنےکو پڑھ رہےہیں سبھی آج بھی نماز

دکھلا دیا ہے سب کو ، فنا کیا بقا ہے کیا
صابر نےخود جنازے کی اپنے پڑھی نماز

وہ تو خدا کی یاد میں رہتا ہے رات دن
ہر وقت ہوتی رہتی ہے مجذوب کی نماز

اللہ نے نبی کو عطا کی ہے عرش پر
معراج مومنوں کے لئے کی گئی نماز

ہمراہ سرکےجھکتے ہیں جب دل سجودمیں
نیکی بدی کی دیتی ہے تب آگہی نماز

سر جیسے جیسے جھکتاگیا رب کے سامنے
سر ویسے ویسے میرا اٹھاتی گئی نماز

قربِ رسول ، قربِ خدا اس کو ہی ملا
سب کام چھوڑ چھاڑ کے جس نےپڑھی نماز

افسوس! بے جھجک جسے ہم چھوڑتے رہے
چشمانِ مصطفی کی ہے ٹھنڈک وہی نماز

پڑھنے سے اس کے مٹتی ہیں ساری برائیاں
ساری عبادتوں میں ہے افضل تبھی نماز

سرکارِ دوجہاں کا یہ فیضان ہی تو ہے
بندوں کو ان کے رب سے ملاتی رہی نماز

دل میں خشوع آتے ہی مختار دفعتاْ
رِق٘ت کے ساتھ آنکھ میں لائی نمی نماز

نتیجہ فکر: مختار تلہری ثقلینی، بریلی