مضامین و مقالات

غریب نواز کی مہمانی اور شبِ مالوہ

سفر مالوہ قسط 2

تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ: سوادِ اعظم دہلی

قیام گاہ تک پہنچے ہی تھے کہ مسجدوں سے اذان مغرب کی صدائیں گونجنے لگیں۔نماز سے فارغ ہوئے کہ صاحب خانہ نے دستر خوان سجا دیا۔شاید اس علاقے میں بھی بعد مغرب ہی کھانا کھانے کا رواج ہے۔یوں تو ہمارے آبائی وطن میں بھی بعد مغرب ہی کھانا کھایا جاتا ہے مگر دلّی پہنچ کر پورا نظام یکسر بدل جاتا ہے، یہاں رات کا کھانا نو دس بجے سے پہلے شاید باید ہی کھایا جاتا یے۔ویسے کھانے کے حوالے سے آقائے کریم ﷺ کا یہ ارشاد گرامی بہترین رہ نمائی کرتا ہے:
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا قُدِّمَ الْعَشَاءُ فَابْدَءُوا بِهِ قَبْلَ أَنْ تُصَلُّوا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ، وَلَا تَعْجَلُوا عَنْ عَشَائِكُمْ.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب شام کا کھانا حاضر کیا جائے تو مغرب کی نماز سے پہلے کھانا کھا لو اور کھانے میں بے مزہ بھی نہ ہونا چاہئے اور اپنا کھانا چھوڑ کر نماز میں جلدی مت کرو۔
(بخاری شریف کتاب الاطعمہ رقم الحدیث 672)

عرب میں دن کا کھانا دوپہر سے کچھ پہلے اور رات کا کھانا سورج ڈوبنے کے آس پاس کھایا جاتا تھا۔یہ عصر ومغرب کا درمیانی وقت، اور اس میں بھی مغرب کے زیادہ قریب ہوتا تھا کہ حضور ﷺ نے اسی کی طرف رہ نمائی فرمائی کہ کوشش کرو نماز مغرب سے پہلے ہی کھانا کھا لو، اگر کھانا نماز کے قریب آئے تو بہ اطمینان کھاؤ پھر نماز ادا کرو تاکہ نماز مکمل اطمینان وسکون کے ساتھ ادا کی جاسکے، ایسا نہ ہو کہ نماز کے لیے کھانا چھوڑیں اور کھانے کے خیال میں نماز کی لذت ختم کریں۔کھانے کے یہ اوقات فطرت کے بہت قریب اور انسانی صحت کے لیے نہایت مفید ہیں مگر ہم لوگوں نے اپنی Routine of life کو اتنا بے ترتیب بنا رکھا ہے کہ بہترین کھانے بھی ہمیں زیادہ فائدہ نہیں پہنچا پاتے۔جب کہ مناسب وقت پر کھایا گیا عام کھانا بھی جسم انسانی کے لیے حد درجہ مفید ہوتا ہے۔

کھانے کے بعد چائے کا دور چلا، چائے کی چسکیوں کے درمیان شہر کے بارے میں مختلف معلومات حاصل کرتا رہا، یہاں تک کہ عشا کی اذانیں شروع ہو گئیں۔نماز عشا کے بعد شہر کے بیچو بیچ واقع مدرسہ انوار العلوم ہائر سیکنڈری اسکول میں پروگرام شروع ہوا۔اندر داخل ہوتے ہوئے میری نگاہ صدر دروازے پر لکھے ہوئے ادارے کے نام پر پڑی جو ہندی میں لکھا ہوا تھا، اندر بھی جہاں نگاہ پڑی وہاں ہندی ہی نظر آئی۔اسٹیج پر لگا ہوا ایک بینر اردو کو زندہ رکھنے کی آخری کوشش کر رہا تھا۔خیال آیا کہ جس شہر میں اردو خواندگی کا تناسب ایک فیصد سے بھی کم ہو وہاں اردو سے بے وفائی کا شکوہ بھی کس سے کیا جائے؟
مجمع اگرچہ کم تھا، مگر خاص بات یہ تھی کہ شرکا میں سارے ہی جوان تھے، دس پانچ افراد ہی ایسے رہے ہوں گے جو 40 پلس ہوں۔نوجوانوں کی تعداد دیکھ کر ہم نے بھی عنوان کے خد وخال قدرے بدل دئے اور "سیرت کی روشنی میں نوجوانوں کا کردار” پر اظہار خیال کیا۔خطاب کے مرکزی نکات یہ تھے:
سیرت رسول کا اہم پیغام بے داغ جوانی ہے۔
سچائی کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔
مزدوری کے بجائے تجارت کو اہمیت دیں۔
حضورﷺ کی عزت وعظمت کو جان سے اہم سمجھیں۔
سیرت کی باتیں بتائیں نہیں، اپنا کر دکھائیں۔

پروگرام کے بعد وسیم میو صاحب نے مولانا یوسف نظامی مصباحی صاحب کا پیغام دیا کہ وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔مولانا یوسف نظامی صاحب دارالعلوم غریب نواز، مالیہ کھیڑی ضلع مندسور کے ناظم اعلیٰ اور تحریک علماے مالوہ کے اہم رکن ہیں۔انہیں کی دعوت محبت پر مندسور آنا ہوا تھا۔مندسور سے پرتاپ گڑھ روڈ کی طرف جاتے ہوئے قریب پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر مالیہ کھیڑی نامی گاؤں پڑتا ہے۔اس چھوٹے مگر خوب صورت گاؤں میں لب روڈ ہی علم وفن کا ایک شہر آباد ہے، جسے دارالعلوم غریب نواز کہا جاتا ہے۔اس ادارے کو 1987 میں قائم کیا گیا تھا۔ادارے کا قیام مندسور اور پرتاپ گڑھ کے قرب وجوار میں بسنے والی اجمیری برادری کے سرکردہ افراد مرحوم حاجی اللہ رکھا پٹیل، حاجی راجو بابا، حاجی پیر محمد پٹیل، حاجی تاج محمد وغیرہ کے دینی ذوق اور برادری کے سرگرم تعاون سے ہوا۔ادارے کی سنگ بنیاد شہزادہ محدث اعظم ہند، شیخ الاسلام حضرت سید محمد مدنی میاں صاحب دام ظلہ نے رکھی۔2001 میں تعلیم کا آغاز ہوا۔سن 2005 میں اجمیری برادری نے ادارے کی باگ ڈور مولانا یوسف نظامی کو سونپی، یہیں سے ادارے کا تعلیمی عروج شروع ہوا۔گذشتہ پندرہ سال میں ادارے سے سیکڑوں طلبہ حفظ وقرأت اور عالمیت کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ادارہ سماجی سطح پر تبلیغی اور اصلاح معاشرہ کی خدمات بھی انجام دیتا ہے۔

ادارے کا محل وقوع راجستھان اور مدھیہ پردیش کے ٹھیک بیچو بیچ ہے۔مالوہ کا حصہ ہونے کی وجہ سے علاقے کی زبان اور ثقافت ایک جیسی ہے۔دارالعلوم کی وجہ سے پورا علاقہ فیض یاب ہورہا ہے۔خوش قسمتی سے ادارے کو مخلص اور قابل اساتذہ میسر آئے جس کی بنیاد پر ادارے کی خدمات کا دائرہ دن بہ دن بڑھ رہا ہے۔فی الحال ادارے میں ناظرہ، حفظ قرآن اور درس نظامی کی تعلیم بہ حسن وخوبی ہورہی ہے۔ادارے کے احاطے میں ہی عصری تعلیم کے لیے صفہ پبلک اسکول بھی قائم ہے۔اسی احاطے میں ایک عالی شان مسجد اور مسجد کے ٹھیک سامنے ایک ولی اللہ حاجی بابا کی تربت بھی مرجع خلائق ہے۔اس طرح ایک ہی احاطے میں مسجد، مدرسہ، اسکول اور خانقاہ کا وجود اتنا خوب صورت نظارہ پیش کرتا ہے کہ انسان دیکھے تو دیکھتا رہ جائے۔مولانا یوسف صاحب کی دعوت وخواہش کے مطابق پروگرام سے فارغ ہوکر ادارے کی جانب چل دئے۔
بنارس کی صبح، اَوَدھ کی شام کی طرح شبِِ مالوہ بھی زمانے میں مشہور ہے۔حسن اتفاق سے نصف اکتوبر کی نصف رات میں "شبِ مالوہ” کا احساس کچھ یوں تھا:

کچھ بھی نہ بچا کہنے کو، ہر بات ہوگئی
آؤ کہیں گھومنے چلیں، رات ہوگئی

گلابی سردی سے اٹھکھیلیاں کرتے ہوئے دارالعلوم غریب نواز میں قدم رکھا۔شب مالوہ سے لطف اندوزی اس وقت دوبالا ہوگئی جب مہمان خانہ میں قدم رکھا۔جدید انداز میں تعمیر شدہ مہمان خانہ ناظم اعلی کے ذوق تعمیر کا پتا دے رہا تھا۔ملاقات ہوئی تو کہیں سے بھی محسوس نہیں ہوا کہ پہلی بار مل رہے ہیں ایسا لگ رہا تھا کہ پرانی شناسائی ہے۔ویسے اس شناسائی کی ایک وجہ اور بھی ہے، مولانا یوسف نظامی "روشن مستقبل” کی سوشل میڈیا یونٹ (ایم پی) کے ذمہ دار اور ہمارے عزیز دوست مولانا بلال نظامی کے بہنوئی بھی ہوتے ہیں۔اس لیے بھی گفتگو میں اجنبیت کا نام ونشان تک نہیں تھا۔اوپر سے یوسف صاحب اپنے نام ہی کی طرح اخلاق وکردار کے بھی حسین ہیں اس لیے باتوں اور چائے کی چسکیوں میں کب گھنٹہ گزر گیا پتا ہی نہیں چلا۔ہمارے آرام کا خیال کرتے ہوئے مولانا یوسف صاحب رخصت ہوگئے اب انہیں کیا پتا کہ ہم رَت جگا کرنے والوں کو بھلا شبِ مالوہ میں جاگنے سے کیا فرق پڑنا تھا، اپنا حال تو یہ تھا:

اس سفر میں نیند ایسی کھو گئی
ہم نہ سوئے رات تھک کے سوگئی
(جاری)

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button