اصلاح معاشرہ

کیا اپنوں کا شکریہ ادا کرنا ضروری ہے

ازقلم: ابو المتبسِّم ایاز احمد عطاری

جی ہاں! شکریہ ادا کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ ہم انسان ہیں اور انسانوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا کہ انسان اکیلا زندگی گزار نہیں سکتا۔ کیوں ؟
اسلئے کہ انسان کی زندگی خوشیوں اور غموں سے مرکب ہے۔ اور ہاں اچھے اور برے حالات میں والدین ، بھائ ، حقیقی دوست اور اساتذہ کرام کے سہارے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

جی ہاں! ضرورت کیوں نہ پیش ہو۔ یہی تو لوگ ہوتے ہیں جو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں ، اعتماد بڑھاتے ہیں ، شاباش دیتے ہیں ، آنسو پونچھتے ہیں اور مشکل وقت میں ہاتھ تھامتے ہیں۔

کبھی تنہائی میں بیٹھ کہ اِن رشتوں کی اہمیت کو محسوس کریں کہ اگر میری زندگی میں یہ رشتے نہ ہوتے تو زندگی کیسے گزرتی ؟
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات نہیں بلکہ اکثر اوقات ہم ان رشتوں کے شکر گزار ہوتے ہیں۔ لیکن شکریہ ادا کرتے نہیں یہ سوچ کہ بھلا اپنوں کو شکریہ کہنے کی کیا ضرورت ہے۔ شکریہ تو غیروں کا ادا کیا جاتا ہے۔

میرے بھائیو! ہمارے معاشرے میں یہ پائی جانے والی سوچ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ اپنوں کو شکریہ کہنا اور انکا احسان مند ہونا بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے جتنا دوسروں کا۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ غیروں سے بڑھ کہ اِن کا شکریہ ادا کرنا بنتا ہے۔

اپنے محسنین کو وقتًا فوقتًا شکریہ ادا کرنے کے ذریعے سے یہ احساس دلاتے رہیں کہ آپ نے مجھ پہ احسان کیا تھا۔ پتہ ہے کیو ؟
اسلئے کہ اِس سے انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ لاپروا نہیں ہیں بلکہ انکی طرف سے ملنے والی توجہ اور محبت کا مکمل ادراک رکھتے ہیں۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ کسی کے اچھے رویے پر یا کسی کی مدد پا کر یا کسی سے ملنے والی خوشی پر یا مشکل وقت میں ساتھ دینے پر اسکا شکر گزار ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ اس شخص کے جذبے اور محبت کی قدر کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے