نعت رسول

نعت رسول: ہو لب پر میرے بس نغمہ نبی کا

نتیجۂ فکر: محمد جیش خان نوری امجدی

ہو لب پر میرے بس نغمہ نبی کا
یہی ہے ماحصل اس  زندگی کا

نہ ہو مقصود شاہ دیں کی مدحت
نتیجہ  کیا  ہے  ورنہ  شاعری  کا

نہیں  ڈرتا  وہ شیطان لعیں سے
گلے میں پٹہ ہے جس کے علی کا

جہاں  جانے  کی  ہے سب کی تمنا
مدینے  میں  ہے  وہ روضہ نبی کا

بٹھا لوں ماں کو میں پلکوں پہ پھر بھی
نہ  ہوگا   حق   ادا    اس   زندگی    کا

جہاں  جاؤگے  پاؤگے  انہیں   کو
ہے   ایسا   رتبہ   میرے  ازہری کا

برستی ہے وہاں رحمت کی بارش
جہاں پر روضہ ہے ہندالولی کا

یہ شہر طیبہ ہے سن لے اے نوری
نہیں  چلتا  یہاں  سکہ کسی کا

نعت رسول: ہو لب پر میرے بس نغمہ نبی کا” پر 0 تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے