تحریر: خبیب القادری مدناپوری، بریلی شریف یوپی بھارت
اسلام کے معنی ہیں فرمابرداری کے ساتھ گردن جھکا دینا۔
اسلام کے بنیادی رکن پانچ ہیں
نمبر 1 اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں
نمبر 2 نماز قائم کرنا
نمبر 3 زکوۃ ادا کرنا
نمبر 4 رمضان المبارک کے روزے رکھنا
نمبر 5 اگر استطاعت ہو تو خانہ کعبہ کا حج کرنا
اور ایمان نام ہے زبان دل اور عمل سے کسی بات کی تصدیق کرنے کا
اسلام کے بنیادی رکن 6 ہیں
نمبر 1 اللہ تعالی پر ایمان لانا
نمبر 2 اس کے فرشتوں پر ایمان
نمبر 3 اس کی کتابوں پر ایمان
نمبر 4 اس کے رسولوں پر ایمان
نمبر 5 آخرت کے دن پر ایمان اور
نمبر 6 بھلی یا بری تقدیر پر ایمان
ہم اور آپ جس رسول کے امتی ہیں ان کا نام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے
اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم عربی مہینہ ربیع الاول کی 12 تاریخ بمطابق23 اپریل 571 ء صبح صادق (فجر) کے وقت مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے
اور مکہ عرب کا ایک شہر ہے عرب ہمارے ملک ہندوستان سے ٹھیک پچھم کی طرف ہے مسلمانوں کو خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم ہے اور کعبہ مکہ میں ہے اس لئے ہم پچھم کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرتے ہیں
اور اس پورے علاقے کو عرب کہا جاتا ہے جہاں جہاں پر عربی زبان بولی جاتی ہے اور اس وقت عرب بہت سے چھوٹے چھوٹے ملکوں بٹا ہوا ہے
اور مکہ عرب کے جس ملک میں ہے ( اس کودور حاضر میں) سعودی عرب کہا جاتا ہے
اور مکہ شریف کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالی کے حکم سے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور اپنی بیوی ہاجرہ رضی اللہ تعالی عنہا کے لیے بساکر آباد کیا تھا
اور مسلمانوں کے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے ہیں
آپ کے قبیلہ کا نام قبیلہ قریش
اور آپ کے خاندان کا نام خاندان بنو ہاشم ہے
آپ کے والد صاحب کا نام حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ اور آپ کی والدہ کا نام حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا ہے اور آپ کے دادا کا نام حضرت عبدالمطلب اور آپ کی دادی کا نام فاطمہ اور آپ کے نانا کا نام وہب آپ کی نانی کا نام برہ تھا
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین عورتوں نے دودھ پلایا
ایک آپ کی والدہ محترمہ
دوسری حضرت ثوبیہ اورتیسری حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالی عنہم ہیں اور حضرت ثوبیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابولہب کی زرخرید باندی تھیں
ابولہب نے انہیں (حضرت ثوبیہ کو)پیارے آقا ﷺ کی پیدائش کی خوشخبری سننے کی خوشی میں آزاد کر دیا تھا
اور حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا عرب کے قبیلہ ہوازن کے خاندان بنوسعد کی ایک خاتون تھیں
پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالی عنہا کے یہاں پرورش پا رہے ہیں ؛ عرب کا دستور تھا کہ جب ان کے یہاں پر کوئی بچہ پیدا ہوتا تو اس کی پرورش کے لئے دور دراز گاؤں دیہاتوں میں بھیج دیا کرتے تھے اور وجہ یہ بتاتے تھے کہ بیماریوں سے بچہ بچے تاکہ جسم طاقتور اور اعضاء مضبوط ہوں اور گہوارہ ہی سے خالص اور ٹھوس عربی زبان سیکھ لے
پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لیے یہاں پرورش پا رہے تھے اس وقت مدت رضاعت گزرنے کے بعد تیسرا سال تھا زرقانی اور ابن سعد کے متعلق چار سال کی عمر کا واقعہ ہے ؛ کیوں کہ کم از کم اس عمر میں بکریاں چرانے کا کام ہو سکتا ہے
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بکریاں چرا رہے تھے کہ آپ کے پاس حضرت جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک کو چاک کیا دل کو نکال لیا اس کو ایک نورانی طشت میں آب زمزم سے دھویا پھر واپس اسی مقام پررکھ دیا
شق صدر (سینہ چاک کرنے) کا یہ واقعہ چار مرتبہ پیش آیا
ایک مرتبہ شق صدر کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ کی عمر دس سال کی تھی
بعثت کے وقت بھی پیش آیا
ایک اس وقت پیش آیا جب آپ کی عمر پاک پچاس برس کی تھیں اور جب آپ کو بیت المقدس لے جایا گیا
آپ کے شق صدر میں یہ حکمت تھی
یہ واقعہ (شق صدر)رسالت کا اظہار تھا اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کا وزن اٹھانے کے لئے تیار کیا جارہا تھا اپنے رسول کو طبعی اغلاط سے پاک کرنے اور شیطان کے شر سے اسکی حفاظت کرے گا
آپ کے بکریاں چرانے میں یہ حکمت تھی
نبوت سے قبل انبیاء کرام علیہم الرضوان کے دلوں میں بکریاں چرانے کا شوق پیدا کرنے میں حکمت یہ ہے کہ بکریاں چرانے سے ان کو اپنی امت کو سدھارنےکا فریضہ سرانجام دینے کی مشق ہوجائے صبر اور تواضع ؛شجاعت ؛شفقت؛ رحمت محنت؛ جیسی صفات پیدا ہوجائیں
واقعہ شق صدر کے بعد حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالی عنہا نے آپ ﷺ کو آپ کی والدہ ماجدہ کے حولے کردیا اس وقت آپکی عمر پاک چار سال کے قریب تھی
جب آپ ﷺ کی عمر پاک چھ سال کی ہوئی تو آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ خاتون رضی اللہ تعالی عنہا فوت ہوگئیں
ہوا یہ تھا کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے والد ماجد حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کی پیدائش سے پہلے وفات پا چکے تھے
آپ کی ماں آپ کے والد حضرت عبداللہ کی قبر انور کی زیارت کے لیے مدینہ منورہ گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ننیہال میں ایک مہینے تک قیام فرمایا اور حضرت ام ایمن کو ساتھ لے کر گئی تھیں مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی دوری پانچ سو کلومیٹر ہے حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مقام” ابواء” پر طبیعت کی علالت میں شدید اضافہ ہوگیا اور اسی مقام پر اپنے خالق حقیقی کو جا ملیں
اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ماں اور باپ دونوں طرف سے یتیم ہو چکے تھے لیکن حفاظت کے الہی اور عنایت ربانی آپ پر ہر طرف سے سایہ فگن تھی حضرت ام ایمن آپ کو مقام "ابواء” سے” مکہ مکرمہ” لے کر کے آئیں
جب آپ مکہ مکرمہ میں اپنے گھر پر آگئے تو آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب آپ کو دیکھ کر بہت غمگین ہوگئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بیٹوں پر ترجیح دینے لگے قسمت میں آپ کو تنہائی کےجس صحرا میں لاکر کھڑا کردیا تھا حضرت عبدالمطلب اس میں آپ کو تنہا چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرکات اور اٹھنے بیٹھنے کی ادا کو دیکھ کر نہایت خوش ہوتے چادر پر اپنے پاس بٹھاتے
( سیرت ابن ہشام جلد نمبر صفحہ 1268)
آگے کی تفصیل کے لیے دوسری قسط کا انتظار کریں