ماہ نامہ اشرفیہ کا مبارک تھا قلم

حروف تعزیت

کبھی کبھی آسمان بھی یوں ٹوٹ کر گرتا ہے کہ زمین پر بسنے والے لفظوں کے مسافر سناٹے میں گم ہو جاتے ہیں اور دل کے دریچوں پر ایسی اداسی اترتی ہے جو برسوں تک اترنے کا نام نہیں لیتی۔ آج ادیب شہیر مولانا مبارک حسین مصباحی نوراللہ مرقدہ کے وصال پر ملال کی یہ خبر بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ درد کی ایک بے آواز چیخ، جو روح کے اندر کہیں گہرائی میں جا کر ٹھہر گئی ہے۔ یوں محسوس ہوا جیسے کتابوں کے اوراق اچانک زرد ہو گئے ہوں، روشنائی نے بہنا چھوڑ دیا ہو، اور قلم کی نوک پر ٹھہرا ہوا نور یکایک بجھ گیا ہو۔ ماہ نامہ اشرفیہ کا وہ مبارک قلم، جو علم کی شمعیں جلاتا، فکر کی راہوں کو روشن کرتا اور دلوں میں یقین کے چراغ سجاتا تھا۔ آج ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ حضرت موصوف کا وصال محض ایک شخصیت کا بچھڑ جانا نہیں، بلکہ ایک پورے عہد کا ٹوٹ کر بکھر جانا ہے۔ وہ صرف ایک مدیر نہ تھے، بلکہ ایک ایسا درویش قلم تھے جن کے لفظوں میں تاثیر تھی، جن کے جملوں میں زندگی دھڑکتی تھی اور جن کے خیالات میں امت کا درد بولتا تھا۔ ان کی تحریریں محض سیاہی سے لکھی ہوئی سطور نہ تھیں بلکہ وہ دلوں کی دھڑکنیں تھیں، جو قاری کے وجود میں اتر کر اسے بدل دیا کرتی تھیں۔ جب وہ لکھتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے علم خود قلم تھامے ہوئے ہے، اور جب بولتے تو حکمت ان کے لہجے میں جھلکنے لگتی۔ ان کی زندگی ایک مسلسل جدوجہد کا نام تھی۔ دین و مسلک اور علم کے فروغ کے لیے۔ انہوں نے اپنی ذات کو مٹا کر ایک ایسا چراغ روشن کیا جس کی روشنی سے نہ جانے کتنے دل منور ہوئے، نہ جانے کتنے ذہنوں کو سمت ملی، اور نہ جانے کتنی گم شدہ راہوں کو منزل کا سراغ ملا۔ ماہ نامہ اشرفیہ ان کے ہاتھوں میں صرف ایک رسالہ نہ تھا بلکہ ایک تحریک تھی، ایک مشن تھا، ایک ایسی صدا تھی جو خاموش دلوں کو جگا دیتی تھی۔ آج جب وہ ہم میں نہیں رہے تو یوں لگتا ہے جیسے کوئی سایہ سر سے اٹھ گیا ہو، جیسے کوئی دعا اچانک رک گئی ہو، جیسے کوئی روشنی دھیرے دھیرے بجھ کر اندھیروں میں تحلیل ہو گئی ہو۔ فضا میں ایک عجیب سی ویرانی ہے، لفظوں میں ایک اجنبیت سی اور دل میں ایک ایسا خلا جسے شاید کبھی پُر نہ کیا جا سکے۔ یہ جدائی محض آنکھوں کو نم نہیں کرتی بلکہ روح کو بھی سوگوار کر دیتی ہے۔ ان کے جانے کے بعد ہر وہ سطر یتیم لگتی ہے جو انہوں نے لکھی، ہر وہ لفظ اداس محسوس ہوتا ہے جو ان کی زبان سے نکلا اور ہر وہ گوشہ خالی دکھائی دیتا ہے جہاں کبھی ان کی موجودگی کا نور تھا۔ ان کی مسکراہٹ، ان کا اندازِ گفتگو، ان کا علمی وقار، سب کچھ یادوں کے دریچوں میں قید ہو کر رہ گیا ہے اور ہم حسرت کے ساتھ ان لمحوں کو یاد کر رہے ہیں جو اب کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اہل علم کبھی مرتے نہیں، وہ اپنے آثار میں زندہ رہتے ہیں، اپنی تحریروں میں سانس لیتے ہیں، اور اپنے فیوض سے نسلوں کو فیض یاب کرتے رہتے ہیں۔ مولانا موصوف بھی اپنے قلم کی روشنی میں زندہ رہیں گے، اپنے علم کی خوشبو میں بسے رہیں گے اور اپنے اخلاص کے نقوش میں ہمیشہ پہچانے جائیں گے۔ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دست بدعا ہیں کہ وہ اس مرد مجاہد قلم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اور انہیں جنت الفردوس میں انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین کے ساتھ اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ پس ماندگان، شاگردوں، عقیدت مندوں اور تمام متعلقین و متوسلین کو صبر جمیل اور اجر عظیم نصیب فرمائے۔

سوگ وار
ازہرالقادری
جامعہ مٹہنا
سدھارتھ نگر
4/جون 26 ء

Leave a Comment