نظم

نظم: جاں اپنی یوں گنوا گئی اک اور عائشہ

نتیجۂ فکر: محمد جیش خان نوری امجدی، مہراج گنج یوپی

جاں اپنی یوں گنوا گئی اک اور عائشہ
سب کو ابھی  رلا  گئی اک اور عائشہ

سابر متی میں کود کے اپنوں کو چھوڑ کر
دوزخ  گلے  لگا  گئی  اک  اور عائشہ

سہہ سہہ کے ان کے طعنے  شب و روز کیا کرے
گھر  کا  دیا  بجھا گئی  اک اور عائشہ

کیا رہ گئی کمی تھی جو پورا نہ کرسکی
مرتے  ہوئے  بتا  گئی  اک  اور عائشہ

ماں باپ رورہے ہیں اسے ڈھونڈتے ہوئے
نظریں کہاں چھپا گئی اک اور عائشہ

کیوں بیچتے ہو  بیٹے کو سونے کے بھاؤ میں
سب کو سبق سکھا گئی اک اور عائشہ

لیتے جہیز کیوں ہوامیری کے نام ہر
الزام   یہ  لگا  گئی  اک اور عائشہ

کیسے کروں میں پیار اے نوری بتاؤ تم
ہم کو  یہی بتا   گئی اک اور عائشہ

تازہ ترین مضامین اور خبروں کے لیے ہمارا وہاٹس ایپ گروپ جوائن کریں!

آسان ہندی زبان میں اسلامی، اصلاحی، ادبی، فکری اور حالات حاضرہ پر بہترین مضامین سے مزین سہ ماہی میگزین نور حق گھر بیٹھے منگوا کر پڑھیں!

ہماری آواز
ہماری آواز؛ قومی، ملی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین کا حسین سنگم ہیں۔ جہاں آپ مختلف موضوعات پر ماہر قلم کاروں کے مضامین و مقالات اور ادبی و شعری تخلیقات پڑھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اگر آپ اپنا مضمون پبلش کروانا چاہتے ہیں تو بھی بلا تامل ہمیں وہاٹس ایپ 6388037123 یا ای میل hamariaawazurdu@gmail.com کرسکتے ہیں۔ شکریہ
http://Hamariaawazurdu@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے