ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے

کلمات تعزیت
من جانب: جامعہ مٹہنا، سدھارتھ نگر

فضاے قرطاس و قلم پر ایک عجیب سی اداسی اتر آئی ہے، جیسے کسی روشن چراغ کو اچانک ہوا نے خاموش کر دیا ہو اور روشنی کی عادت ڈال چکی آنکھیں اب اندھیرے سے آشنا ہونے پر مجبور ہوں۔ ادیب شہیر حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی صاحب کی رحلت محض ایک فرد کا سانحہ نہیں، بلکہ علم و ادب کی ایک پوری دنیا کے اجڑ جانے کا کرب ناک منظر ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ لفظوں کی بستی کا ایک معمار خاموش ہوگیا اور اپنے پیچھے وہ سناٹا چھوڑ گیا جس میں یادوں کی صدائیں دیر تک گونجتی رہتی ہیں۔
وہ شخصیت، جو علم کی شمع بھی تھی اور ادب کی خوشبو بھی، اب ہمارے درمیان نہیں رہی؛ مگر ان کا فیض، ان کا اسلوب، ان کی تحریروں کی مہک، اب بھی فضا میں گھلی ہوئی ہے۔ جامعہ اشرفیہ مبارک پور کی درس گاہیں آج بھی شاید ان کے قدموں کی چاپ سننے کو بے تاب ہوں گی اور وہ تختۂ درس جو کبھی ان کی علمی جلالت کا امین تھا، اب خاموشی سے ان کی جدائی کا نوحہ پڑھ رہا ہوگا۔ انہوں نے صرف کتابیں نہیں پڑھائیں، بلکہ اذہان کو جلا بخشی، دلوں کو وسعت دی اور فکر کو وہ سمت عطا کی جو انسان کو انسان سے بہتر بنا دیتی ہے۔
ان کی گفتگو محض الفاظ کا مجموعہ نہ تھی، بلکہ دلوں میں اتر جانے والی تاثیر کا ایک دریا تھی؛ اور ان کی خاموشی بھی ایک ایسی زبان رکھتی تھی جو طالب علم کے باطن کو جھنجھوڑ دیتی تھی۔ علم کی سنجیدگی، ادب کی لطافت، اور مزاج کی سادگی، یہ تینوں اوصاف ان کی ذات میں اس طرح جمع تھے جیسے خوشبو، پھول اور رنگ ایک ہی شاخ پر یکجا ہوں۔ سیرت میں انکسار، کردار میں وقار، اور برتاؤ میں ایسی شگفتگی کہ ملنے والا خود کو ان کا اپنا محسوس کرے۔
ان کی ادارت میں ماہ نامہ اشرفیہ محض ایک رسالہ نہ رہا، بلکہ فکر و فن کا ایک ایسا مینار بن گیا جس سے روشنی کی کرنیں دور دور تک پھیلتی رہیں۔ "سیدین نمبر” جیسی یادگار اشاعتیں ان کے ذوق تحقیق اور وسعت نظر کا زندہ ثبوت ہیں، اور "شہر خموشاں کے چراغ” میں ان کا اپنے آپ کو شامل کر لینا گویا تقدیر کی ایک خاموش تحریر تھی۔ جیسے کوئی صاحب دل اپنے انجام سے پہلے ہی آشنا ہو۔
جامعہ اہل سنت امدادالعلوم مٹہنا، ضلع سدھارتھ نگر کے اساتذہ، طلبہ اور متعلقین کے لیے یہ سانحہ محض خبر نہیں، بلکہ دل پر اترنے والا ایک بوجھ ہے، ایک ایسا دکھ جس کی گہرائی کو لفظوں میں سمونا آسان نہیں۔ ہر آنکھ اشک بار ہے، ہر دل گرفتہ اور ہر زبان بے اختیار دعا میں مصروف۔
ہم سب حضور عزیز ملت، نعیم ملت، اساتذۂ جامعہ اشرفیہ اور دیگر تمام پس ماندگان کی خدمت میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے تعزیت پیش کرتے ہیں، اور بارگاہ الٰہی میں دست بہ دعا ہیں کہ اللہ تعالیٰ موصوف کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پس ماندگان کو صبر جمیل کی دولت نصیب کرے۔ ملت اسلامیہ کو ان کا نعم البدل عطا ہو۔ اگرچہ ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔

سوگوار
ازہر القادری و جملہ اساتذہ و طلبہ
جامعہ اہل سنت امدادالعلوم مٹہنا، کھنڈسری، سدھارتھ نگر (یو۔پی۔)
5/جون 2026ء، جمعہ مبارکہ

Leave a Comment