غزل

غزل: دھندلا چکا ہے آئینہ اعتبار بھی

ازقلم: مختار تلہری زینت ہے گلستاں کی خزاں بھی بہار بھیشاخوں سے لپٹے رہتے ہیں گل اورخار بھی کیسے یقیں کا چہرہ نظر صاف آ سکےدھندلا چکا ہے آئینۂِ عتبار بھی ایسا نہیں کہ صرف گریباں ہوا ہو چاکدیکھا ہے میں نے دامنِ دل تار تار بھی میں تو ہوا میں ہاتھ ہلاتا ہی رہ […]

غزل

غزل: تم نے شاید مجھے بھی دیکھا ہو

خیال آرائی: فیضان علی فیضان سچ کہوں گا میری شنا سا ہوتم نے شاید مجھے بھی دیکھا ہو اپنی حالت بیان کیسے کروںذہن جب الجھنوں میں الجھا ہو بات اپنی رکھوں تیرے آگےتو مقابل جو آ کے بیٹھا ہو میرے دل کو سکون دیتا ہےزخم الفت کا جتنا گہرا ہو تپتے صحرا میں جیسے چھاؤں […]

غزل

غزل: حال اپنا مجھے بتائے ذرا

خیال آرائی: فیضان علی فیضان کچھ سنے اور کچھ سنائے ذراحال اپنا مجھے بتائے ذرا تیرے بیمار کے ہیں حال برےاس سے کہنا کہ مسکرائے ذرا ہم پسند اس کو کر ہی جائیں گےچائے کا کپ وہ لیکر آئے ذرا اس کی ہجرت کا اب ملال نہیںاس سے کہنا اور ستائے ذرا میکشی ہم کو […]

غزل

غزل: کیا جوانی کی تقدیر تھی

خیال آرائی: ذکی طارق بارہ بنکویسعادت گنج،بارہ بنکی،یوپی میری شیدائی اک ہیر تھیکیا جوانی کی تقدیر تھی کیسے جاتے کسی اور سمتپاؤں میں تیری زنجیر تھی کوئی چہرہ میں کیوں دیکھتاآنکھوں میں تیری تصویر تھی میری غزلوں کے معیار میںحسنِ جاناں کی تاثیر تھی بن گئی اس کی تصویر کیوںمیں نے لکھّی تو تحریر تھی […]

غزل

غزل: یوں کدھر جاتے ہیں لوگ

نتیجہ فکر: اسانغنی مشتاق رفیقیؔ محو حیرت ہوں، ازل سے یوں کدھر جاتے ہیں لوگلوٹ کر کوئی نہ آیا، کس سفر جاتے ہیں لوگسامنے گلشن ہے یا پھیلا ہوا صحرا کوئیکچھ خبر اِن کو نہیں ہے، یوں کدھر جاتے ہیں لوگجب میں حاتم ہوں نہ گھر میرا ہے کعبہ کی طرحمیرے دروازے پہ آکر کیوں […]

غزل

غزل: بھلا کیسے گرفتار محبت ہوگئے ہم تم

ازقلم: ذکی طارق بارہ بنکویایڈیٹر۔ہفت روزہ” صداے بسمل” بارہ بنکیسعادتگنج،بارہ بنکی(اترپردیش)پن کوڈ۔225206 کہو، اک دوسرے کی کب ضرورت ہو گئے ہم تمبھلا کیسے گرفتارِ محبت ہوگئے ہم تم انا،عدل،آتما،سچ سب کا سودا یار کر بیٹھےستم ہے اس طرح سے نذرِ غربت ہوگئے ہم تم محبت کے مقدس محترم ماحول میں رہ کرذرا دیکھو تو کتنے […]

غزل

مری راہوں میں پیچ و خم بہت ہیں

ازقلم: مختار تلہری ثقلینی بریلی ارادے پھر بھی مستحکم بہت ہیںمری راہوں میں پیچ و خم بہت ہیں جسے جانا ہو واپس لوٹ جائےمری راہوں میں پیچ و خم بہت ہیں بہت دشواریوں کا سامنا ہےمری راہوں میں پیچ و خم بہت ہیں تبھی محتاط ہو کر چل رہا ہوںمری راہوں میں پیچ و خم […]

غزل

غزل: اور یہ زخم ہرا رہنے دے

خیال آرائی: فیضان علی فیضان اب محبت کو قضا رہنے دےاور یہ زخم ہرا رہنے دے اب نہ آنا تو پلٹ کر دلبراب مجھے غم پڑا رہنے دے کیا کہا اپنا بنالوں تجھ کوتجھ سے نہ ہوگی وفا رہنے دے روٹھنے والوں کو منانے کی کوشش نہ کروہ خفا ہیں تو خفا رہنے دے تیری […]

غزل

غزل: بے کیف زندگی کا سفر کون دے گیا

ازقلم: مختار تلہری ثقلینی دل سوگوار ، دیدۂ تر ،  کون دے گیابے کیف  زندگی  کا سفر کون دے گیا شیشہ گری میں نام  تمھارا  بہت سناپتھر  تراشنے  کا  ہنر  کون  دے گیا خوابوں پہ اعتماد کئےجا رہا ہوں میںکمبخت  یہ  فریبِ  نظر  کون دے گیا دل جاگنے کی ضد پہ رہا رات بھر مگرآنکھوں […]

غزل

غزل: نقش باقی ہیں ابھی تک وقت کے رخسار پر

خیال آرائی:مختار تلہری ثقلینی پھر ستم توڑا ستمگر نے کسی لاچار پردِکھ رہے ہیں خون کے دھبے بہت اخبار پر رہزنی کا اب گلہ کرنے سے بھی کیا فائدہکیوں بھروسہ کر کے نکلے قافلہ سالار پر مٹ گئے آثارِ الفت اک زمانہ ہو گیانقش باقی ہیں ابھی تک وقت کے رخسار پر توڑ ڈالیں گے […]