غزل: کیا ہوئیں باشا

اسانغنی مشتاق رفیقی، وانم باڑی تمھارے سر کی تُرکی ٹوپیاں وہ کیا ہوئیں باشابڑے رُومال، اُجلی لُنگیاں وہ کیا ہوئیں باشاچبوترے جو کبھی پہچان تھے اچھے مکانوں کےبڑے لوگوں کی اُجلی داڑھیاں وہ کیا ہوئیں باشاوہ اُجلی چادریں اور کالے بُرقعے سیدھے سادے سےاور اُن میں سمٹی سمٹی بیبیاں وہ کیا ہوئیں باشابڑوں سے بات … Read more

بے وقوف کا کارنامہ

قسمت سکندرپوری یو پی انڈیا لاش کو لاس کر دیا اس نےستیا ناس کر دیا اس نے پاس کو فیل جب نہ کر پایافیل کو پاس کر دیا اس نے رام کو چھوڑ, لکشمن کے نامغم کا بنواس کر دیا اس نے جھوٹ سچ میں ملا کے ملیامیٹسارا اتیہاس کر دیا اس نے ایک ہی … Read more

غزل: مری نظر میں بس گیا ہے جب سے گل بدن ترا

نتیجہ فکر: ذکی طارق بارہ بنکویایڈیٹر:ہفت روزہ "صداے بسمل” بارہ بنکیسعادت گنج،بارہ بنکی،یوپی بڑی ہی بیقراری سے اے غیرتِ چمن تراآ انتظار کرتے ہیں سب اہلِ انجمن ترا یہ لفظ لفظ گل فشاں سا لہجہء سخن ترادوانہ کر گیا مجھے اے میرے یار فن ترا تری ہر ایک مرضی پر تو سر کئے ہوئے ہوں … Read more

غزل: یہ نہ پوچھو وہ کون تھا کیا تھا

نتیجہ فکر: فیضان علی فیضان میں نے کل رات جس کو دیکھا تھایہ نہ پوچھو وہ کون تھا کیا تھا میں ہی پہچان اسے نہیں پایاوہ میرے سامنے سے گزرا تھا جس پہ میری نگاہ ٹھہری تھیساری محفل میں وہ اکیلا تھا اس کو پروا نہ تھی کسی کی مگرمیرے سینے میں خوف دنیا تھا … Read more

غزل: لوگوں کے سامنے ہمیں رسوا نہ کیجیے

ازقلم: فیضان علی فیضان محفل میں اس قدر بھی تماشا نہ کیجئےلوگوں کے سامنے ہمیں رسوا نہ کیجیے لازم ہے پہلے ظرف کو پہچان لیجیےیوں امتحاں میں خود کو تو ڈالا نہ کیجیے سنتے ہی درد تیرا جو آنکھیں چھلک گئیںیوں دردِ دل کسی کو سنایا نہ کیجیے نظرِ کرم ہی چاہیے راہِ حیات میںموسم … Read more

غزل: خواب دیکھا یہ اک سنہرا تھا

خیال آرائی: فیضان علی فیضان سچ کے ملبوس میں یوں ہوتا تھاجھوٹ بھی سچ کی طرح کہتا تھا ہم کو بدنام کر رہا تھا وہہم نے تو کچھ نہیں بگاڑا تھا جان ہم پر نثار کرتا تھاکچھ نہیں تھا وہ بس دکھاوا تھا زندگی ساتھ میں بسر کرتےخواب دیکھا یہ اک سنہرا تھا بعد میں … Read more

غزل: شہروں میں لوگ رہتے ہیں اکثر اداؤں میں

ازقلم: محمد تحسین رضا قادریبانی رضا اسلامک مشن گنگا گھاٹ اناؤ٩٨٣٨٠٩٩٧٨٦ شہروں میں لوگ رہتے ہیں اکثر اداؤں میںحد درجہ پیار اور محبت ہے گاؤں میں اپنا کوئی جو آیا تو محسوس یہ ہواپیاری سی اک مہک ہے یہاں پر فضاؤں میںنکلا ہو جیسے چاند یہاں پر گھٹاؤں میں افسوس سانس لینا بھی دشوار ہوگیانفرت … Read more

غزل: حسرت انتظار یار نہ پوچھ

خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاک کیسے ہوتا ہے مجھ سے یار نہ پوچھمار دیتا ہے سب کو پیار نہ پوچھ راہ تکتا میں اس کی رہتا ہوںحسرت انتظار یار نہ پوچھ اس کے بن تیرگی لگے دن میںدل لگی کا ڈھلا خمار نہ پوچھ میں سمجھتا تھا ہوں سیانا میںپھنس گیا ہو کے میں … Read more

غزل: ہم ان کو فقط اپنا بنانے میں لگے ہیں

خیال آرائی: ذکی طارق بارہ بنکویایڈیٹر۔ہفت روزہ "صداۓ بسمل” بارہ بنکیسعادت گنج،بارہ بنکی،یوپی ہم ان کو فقط اپنا بنانے میں لگے ہیںاور وہ ہیں کہ دنیا میں زمانے میں لگے ہیں ُاُتنا ہی ہُوا جاتا ہے وہ آپے سے باہرجتنا ہی اسے ہم کہ منانے میں لگے ہیں ویسے ہی وہ خاطر میں مجھے لاتا … Read more

غزل: کوئی یوسف ہی نہیں ہے بھرے بازار میں اب

خوشبو پروین قریشیپی ایچ ڈی،اردو یونی ورسٹی آف دہلی پاؤں رکھنے کا ارادہ ہے کیا انگار میں ابوہ جلن خور سقم ڈھونڈے گا اشعار میں اب حوصلے پست نظر آئے معالج کے مجھےکیسے امید نظر آئے گی بیمار میں اب وہ انا دار سا لہجہ بھی نہیں ہے باقیوہ کڑک پن بھی نہیں آپ کی … Read more