غزل

غزل: شاید کٹا ہوا ہے تعلق رقیب سے

خیال آرائی: اسانغنی مشتاق رفیقیؔ جب سے وہ تشنہ لوٹے ہیں کوئے حبیب سےانداز اُن کے لگنے لگے ہیں عجیب سےتزئین کی ہے اُن کی خدائے جمیل نےیہ جان لو گے، اُن کو جو دیکھو قریب سےلہجے میں اُن کے اب وہ شرارت نہیں رہیشاید کٹا ہوا ہے تعلق رقیب سےاک میں ہی مبتلا ہوں […]

غزل

دیش کا پردھان

خیال آرائی: عاقب چشتیکیسریا مشرقی چمپارن بہاررابطہ نمبر:- 9931416860 ظلم و ستم کی آپ حمایت نہ کیجیےعدل و وفا سے کوئی بغاوت نہ کیجیے آیا ہے ویل ایسے نمازی کے واسطےہرگز ریا کے ساتھ عبادت نہ کیجیے تلیے پکوڑے کرکے اِیم بی اے دوستوسرکاری نوکری کی یوں چاہت نہ کیجیے آپس میں نفرتوں کی جو […]

غزل

غزل: اندھا خواب میں دیکھے تو کیا دیکھے گا

ڈاکٹر عابدہ بتول صاحبہ کے لیے بطور داداپنی غزل پیش کرتا ہوں۔ ازقلم: شہباز نیّر ہر چہرے میں اُس کا چہرہ دیکھے گادِل ، جیسا سوچے گا ویسا دیکھے گا آنکھوں والو سوچو، سوچ کے بتلاؤاندھا خواب میں دیکھےتو کیادیکھےگا حاسد شخص کی ایک نشانی یہ بھی ہےجل جائے گا جس کو ہنستا دیکھے گا […]

غزل

سفینۂ بخشش

نتیجہ فکر: محمد اشرفؔ رضا قادری ادب کا مہرِ درخشاں سفینۂ بخششسخن کی شمعِ فروزاں سفینۂ بخشش نبی کی مدح و ثنا کا حسین گلدستہثنائے شاہِ رسولاں سفینۂ بخشش نگار خانۂ سوز و گدازِ عشقِ نبیجمالِ شوقِ فراواں سفینۂ بخشش اچھوتی فکر ، حسین طرز ، منفرد اسلوبحسین نعتیہ دیواں سفینۂ بخشش جمالیاتِ سخن کا […]

غزل

قلم نامہ: گوہر حرف درخشندہ لٹاتا ہے قلم

رشحات قلم: واصف رضا واصفؔ، مدھوبنی بہار تابش انوار و بہجت میں نہاتا ہے قلمگوہر حرف درخشندہ لٹاتا ہے قلم صفہ ٕ اہل معارف میں بٹھاتا ہے قلموادی پرپیچ میں چلنا سکھاتا ہے قلم قلعہ ٕ جبر و تشدد خیز ڈھاتا ہے قلمگردن اعداے شاہ دیں اڑاتا ہے قلم آشناے راز علم و فن بناتا […]

غزل

غزل: زخم کتنا بھی ہو گہرا تو وہ بھر جائے گا

از قلم: تحسین رضاقادریجنرل سکریٹری: رضا اسلامک مشن، گنگا گھاٹ اناؤ٩٨٣٨٠٩٩٧٨٦ وقت گزرا ہے گزرتا ہے گزر جائے گادیکھنا چھوڑ کے اچھا یہ اثر جائے گا وقت کے ساتھ چلو صبر کرو دنیا میںزخم کتنا بھی ہو گہرا تو وہ بھر جائے گا اس کو پھر منزل مقصود نہ مل پائے گیمشکلوں اور مصیبت سے […]

غزل

غزل: ہماری ذات کی وسعت خدا جانے کہاں تک ہے

خیال آرائی: ذکی طارق بارہ بنکویسعادت گنج،بارہ بنکی،یوپی وہ حب جس کی ذکی تمثیل بحرِ بے کراں تک ہےمآل اس کا بھی صد افسوس بس اک داستاں تک ہے مکاں سے لا مکاں تک ہے زمیں سے آسماں تک ہےہماری ذات کی وسعت خدا جانے کہاں تک ہے مری خانہ خرابی پر نہ جا قسمت […]

غزل

غالب کی زمین میں: طنز و مزاح پر مبنی غزل

خیال آرائی: اسانغنی مشتاق رفیقیؔ جب سے اُن کے گھر کے آگے بیوٹی پارلر کُھلارات دن رہنے لگا ہے شیخ جی کا در کُھلابوڑھے بھی بن ٹھن کے اب لگنے لگے ہیں نوجواںجب سے میرے گاؤں میں ممتاز کا دفتر کُھلااِن کم انگ اور آؤٹ گوئنگ کی ملی تفصیل جوپیچھے ہر مس کال کے ہے […]

غزل

غزل: احباب ہمارے سارے

خیال: ذکی طارق بارہ بنکویسعادت گنج،بارہ بنکی،یوپی ہم سے روٹھے سے ہیں احباب ہمارے سارےالٹے بہنے لگے اب پیار کے دھارے سارے مشتری زہرہ عطارد سے ملے نام جنھیںآسماں پر وہ چمکتے ہیں ستارے سارے درد کے طور کبھی آہ کبھی اشکوں کے طورمیں نے اے عشق ترے قرض اتارے سارے کون سی چُوک ہوئی […]

غزل

غزل: درد اک سینے میں ہم سب سے جدا رکھتے ہیں

خیال آرائی: اسانغنی مشتاق رفیقیؔ درد اک سینے میں ہم سب سے جدا رکھتے ہیںہم سے مت پوچھ کہ اس درد میں کیا رکھتے ہیںچند آنسو کے گُہر ، چند لہو کے نیلماپنے کشکول میں آ دیکھ کیا رکھتے ہیںاے خدا تھام کے رکھ اپنی زمیں کے پائےدشت میں تیرے قدم آبلہ پا رکھتے ہیںیوں […]