غزل: اس کی محفل میں وہ گمنام ہوا
خیال آرائی: ناطق مصباحی اپنی کاوش میں وہ ناکام ہوااپنے کرتوت سے بدنام ہوا جس نے سینچا ہے خون سے گلشناس کی محفل میں وہ گمنام ہوا جو تباہی کاسبب نہ سمجھےاسکی نظروں میں وہ خوشنام ہوا آج اسکے بھی ہوگئے نالاںدیکھ صیاد زیر دام ہوا اچھے شعبوں سے خوشنوائی تھیمنفعت بخش ہی نیلام ہوا … Read more