دوران خلافت عباسیہ دولت بویہ دیلمی کا عروج و زوال!

شمالی ایران اور بحر کیسپیئن ( Caspian Sea) سے متصل ایک پہاڑی علاقہ ہے جسے دیلم کہا جاتا ہے۔ عباسی خلیفہ مقتدر باللہ( 932-908) کے دور خلافت میں  اطروش یعنی حسن بن علی بن حسین بن علی زین العابدین  نامی شخص اس خطہ ارض میں جاکر لوگوں کو اسلام کی دعوت دی اور تیرہ برس … Read more

دوران خلافت عباسیہ خود مختار  سلطنتوں کا قیام!

خلافت عباسیہ پانچویں قسط دولت طولونیہ، دولت سامانیہ، دولت صفاریہ، فاطمی خلافت، قرامطہ کی تعدی۔ خلیفہ مہتدی باللہ (870-869) کے انتقال کے بعد اس کا چچازاد بھایی معتمد علی اللہ بن متوکل علی اللہ  بن معتصم باللہ بن ہارون الرشید ( 892-870) خلافت عباسیہ کا پندرہ واں خلیفہ ہوا۔ وہ ام ولد فتیان نامی کے … Read more

خلافت عباسیہ کے چار ناتواں اور نااہل خلفاء

خلافت عباسیہ (چوتھی قسط) نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے 610 ء عیسوی میں مکہ مکرمہ دعوت توحید کا آغاز کیا۔آپ ﷺ کے وفات کے بعد آپ ﷺ کے عظیم فرماں بردار ساتھیوں نے توحیدی مشن کو بخوبی انجام دیا،لیکن بعد کے آنے والے خلفاء کے اندر وہ خوبیاں موجود نہیں تھی جو خوبی … Read more

خلافت عباسیہ میں ترکوں کا عروج اور مسئلہ خلق قرآن کا خاتمہ !

خلافت عباسیہ (تیسری قسط) معتصم باللہ خلافت عباسیہ کا آٹھواں خلیفہ تھا، جس کا دوران حکومت سنہ 833ء سے 842ء تک تھا۔وہ خلیفہ ہارون الرشید کا بیٹا تھا۔اس کا اصل نام ابو اسحاق معتصم بن ہارون الرشید تھا(ایک جگہ محمد بھی آیا ہے)،لیکن تاریخ میں وہ معتصم باللہ کے نام سے مشہور ہے۔معتصم کی نسبت … Read more

خلافت عباسیہ کے تین عظیم خلفاء، مہدی، ہادی اور ہارون الرشید !

خلافت عباسیہ (دوسری قسط) پہلا عباسی خلیفہ سفاح نے یہ وصیت کی تھی کہ اس کے مرنے کے بعد اس کا بھائی منصور خلیفہ ہوگا اور منصور کے وفات کے بعد اس کا بھتیجا عیسیٰ بن موسیٰ خلیفہ ہوگا۔سال 775 میں مکہ مکرمہ حج کی روانگی کے وقت راستہ میں خلیفہ منصور کی موت ہو … Read more

کیا خلافت عباسیہ اہل بیت رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی حق تلفی کرکے قائم کی گئی تھی؟

خلافت عباسیہ (پہلی قسط) عباسی خلافت کا پہلا خلیفہ ابو العباس عبداللہ سفاح تھا۔خلیفہ سفاح کے نام سے زیادہ مشہور ہے۔ اس نے سال 750ء سے لیکر سال 754ء تک حکومت کیا۔اس خلیفہ کا تعلق خاندان عباسیہ سے تھا۔ عباس رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے چچا تھے۔ آںحضرت ﷺ نے اپنے چچا عباس  … Read more