ربیع الاول نبی کریمﷺ

ولادت مصطفیٰﷺ اور کفر کے ایوانوں میں زلزلے

ہر طرف شور اٹھا مصطفی آگئے
منہ کے بل بت گرا مصطفی آگئے

اِس خاکدان گیتی پر انسانوں کی تعلیم وتربیت وصحیح عقائد کی رہنمائی کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام کی یکے بعد دیگرے تشریف آوری ہوتی رہی، سب نے اپنے تئیں اپنی قوم کو استطاعت بھر دینِ حنیف کی خدمت انجام دیتے اور اصلاح وارشاد کا عظیم فریضہ انجام دیتے رہے ، اور ان کو دعوت الی اللہ دیتے رہے، سب کا مقصد ومحور اعلائے کلمۃ الحق اور اللہ وحدہٗ لاشریک کی ذات ستودہ صفات کی معرفت اور ایک خدا کی عبادت کرنے کے جانب راغب کرنا تھا ، کیوں کہ اُس دور کی عوام مختلف طریقے کے بتوں کی پرستش کرتے تھے، دیتاؤں ، بت، آگ، پانی ، مٹی، درخت، گائے ، بندر، غرضیکہ ان لوگوں نے کئی ایک کو اپنا خدا تسلیم کر چکے تھے، انسانیت مختلف طبقوں میں تقسیم ہوگئی تھی ، ان میں کوئی ایک دوسرے کے گھاٹ پر پانی نہیں پی سکتا تھا، جب تمام انبیاء علیھم السّلام کی تعلیمات تقریبا ختم ہوچکی تھی، تو سب کے آخر میں اللہ تعالی نے جس پر "نبی آخر الزماں” کہہ کر نبوت ورسالت کا دروازہ مقفل کر دیا تو اس عہد کے لوگوں کے مابین اب کون دین اسلام کی نشر واشاعت کرے گا؟؟۔

لوگوں نے سابق دین میں اس قدر تحریف کر دی تھی کہ حقیقت کی تلاش ایک مشکل امر اور ناممکن ہو چکی تھی، جب مکہ کے عالم انسانیت پر گم گشتِ ضلالت کے بادل چھائے ہوئے تھے ، کفر وشرک کا بول بالا تھا، وہاں کی مخلوق مختلف طرح کی غلط رسومات وخرافات میں محو تھی ، بت پرستی عام تھی ، ہر گھر بت خانہ ، یہاں تک کہ جو خانہ کعبہ سر خیمہ توحید اور منبع ہدایت تھا وہ بھی اصنام خانہ بن چکا تھا ، دختر کشی کی پیہامانہ رسم جاری تھی ، ہر بات میں تلواریں نیاموں سے نکلتی، ایک بار جنگ کی آگ سلگ جاتی تو صدیوں تک یہ شعلہ بڑھکتا رہتا تھا، اپنے ہاتھوں کے تراشے ، خراشے ہوئے بتوں کو اپنا معبود تسلیم کر چکے تھے، جوا کھیلنا ان کی سخاوت کی علامت تھی، شراب نوشی ، ان کے فیاضیوں میں شامل، اور لوٹ مار عام تھی، توحید خداوندی کے قائل چنیدہ چندیدہ لوگ تھے ، وہ بھی خوف سے گوشہ نشینی اختیار کئے ہوئے تھے۔

بالآخر میرے رب کے اجڑے گلشن میں بہار آئی، ابراہیمی شاخ پر ایک ایسا پھول کھلا جس کی مہک ہر چہار دانگ عالم میں محسوس ہوئی ، مکہ میں ایک ایسا ماہتاب کامل طلوع ہوا جس کی ضیا بار کرنیں پوری دنیا میں پھیلیں، آسمان نے حسرت بھری نگاہوں سے زمین کی طرف دیکھا اور اس کے خوش نصیبی پر رشک کرنے لگا کہ محبوب خالق ومالک نے وہاں پر نزول اجلال فرمایا، ایک صبح صبح کاذب، موسمِ وقت سہانا ، سنسنی خیز ہوائیں ، کلیوں کی چہچہاہٹ ، پھولوں کی مہک ، گرتے ہوئے جھرنے ، سمندر کی لہریں موجیں مار رہی تھیں، پھر کیا ہوا ظلمت وتاریکی اور کالی گھٹائیں چَھٹ گئیں، وہ والدین جو اپنے بچوں کو زندہ زمین بوس کر دیا کرتے تھے ، ان کے چہرہ پر فرحت وانبساط کے بادل ظاہر ہونے لگے ، امروز ہی کے دن ایسے میں رب ذوالجلال نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر خاتم النبیین کی مہر ثبت فرما کر گمراہوں کی مرکز میں مبعوث فرمایا، اور تمام جہاں والوں کو انوار و برکات سے مامور ، اور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو اوصافِ حمیدہ، و کمالاتِ محمودہ، سے متصف فرمایا،گمراہیت اور ایوان کفر وشرک میں زلزلہ بپا کرنے کے لیے منبع رشد وہدایت بن کر تشریف لائے، ایوان صنم کو مسمار کرنے کے لیے تشریف لائے، اپنی امتی جو گم کردہ راہ تھے ، انھیں اللہ عزوجل کی وحدانیت اور جملہ سابقہ روایات (مراد: انبیائے کرام علیہم السلام) کی طرح تعلیم وتعلم کا طریقۂ کار اپنانے کی صحیح شاہراہ عام کی جانب رہنمائی فرمانے کے لیے تشریف لائے، سید الانبیاء والمرسلین بن کر تشریف لائے،تمام جہاں والوں کے لئے رحمت بنا کر تشریف لائے۔

رب قدیر ومقتدر ہم سب کو حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرمائے اور آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کی غلامی میں ہمارا نام تحریر فرمادیں، دین وملت کی خدمت کرنے کی توفیقِ رفیق عطا فرمائے، تاحینِ حیات مسلک حقا پر گامزن رکھے! اسی پر خاتمہ بالخیر فرمائے!آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم

ازقلم: محمد ارشاد احمد قادری
متعلم: جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی مئو

تازہ ترین مضامین اور خبروں کے لیے ہمارا وہاٹس ایپ گروپ جوائن کریں!

آسان ہندی زبان میں اسلامی، اصلاحی، ادبی، فکری اور حالات حاضرہ پر بہترین مضامین سے مزین سہ ماہی میگزین نور حق گھر بیٹھے منگوا کر پڑھیں!

ہماری آواز
ہماری آواز؛ قومی، ملی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین کا حسین سنگم ہیں۔ جہاں آپ مختلف موضوعات پر ماہر قلم کاروں کے مضامین و مقالات اور ادبی و شعری تخلیقات پڑھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اگر آپ اپنا مضمون پبلش کروانا چاہتے ہیں تو بھی بلا تامل ہمیں وہاٹس ایپ 6388037123 یا ای میل hamariaawazurdu@gmail.com کرسکتے ہیں۔ شکریہ
http://Hamariaawazurdu@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے