غزل: اور یہ زخم ہرا رہنے دے
خیال آرائی: فیضان علی فیضان اب محبت کو قضا رہنے دےاور یہ زخم ہرا رہنے دے اب نہ آنا تو پلٹ کر دلبراب مجھے غم پڑا رہنے دے کیا کہا اپنا بنالوں تجھ کوتجھ سے نہ ہوگی وفا رہنے دے روٹھنے والوں کو منانے کی کوشش نہ کروہ خفا ہیں تو خفا رہنے دے تیری … Read more