غزل

غزل: عقیدتوں میں جو میرے شگاف کرنے لگے

از: فارح مظفرپوری زمانہ ہم سے بڑا اختلاف کرنے لگےحقیقتوں کا اگر انکشاف کرنے لگے تباہی آئے گی اک روز اس کے جیون میںعقیدتوں میں جو میرے شگاف کرنے لگے میں اسکی ذات کوکچھ بھی نہیں سمجھتا ہوںجو صوفیوں کے مشن کے خلاف کرنے لگے انھی کے ٹکڑوں کو کھا کر پلے بڑھے ناداننسب سے […]

غزل

غزل: محفل میں ان کی جانا ذرا دیکھ بھال کے

خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان محفل میں ان کی جانا ذرا دیکھ بھال کےہاتھ ان سے تم ملانا ذرا دیکھ بھال کے کرنی ہے گفتگو ذرا آداب بھی رہےروداد تم سنانا ذرا دیکھ بھال کے لائق نہیں کبھی بھی دل ِاعتبار کےاُن پر بھروسہ کرنا ذرا دیکھ بھال کے محفل میں حاسدین کی لمبی […]

غزل

غزل: اب تو پانا لگے محال اسے

نتیجۂ فکر: ذکی طارق بارہ بنکویسعادت گنج۔بارہ بنکی، یو۔پی۔ بھارت دے کے شہکار خد و خال اسےکر دیا رب نے بے مثال اسے زیب دیتا ہے یہ جلال اسےہے ملا ایسا ہی جمال اسے وہ کسی اور کا ہوا نکلااب تو پانا لگے محال اسے پھول کھل اٹھتے ہیں قدم بقدمکیا حسیں تر ملی ہے […]

غزل

غزل: سب کو انوکھے خواب دکھاتی ہے زندگی

خیال آرائی: نذیر اظہرؔ کٹیہاری امید پر ہی جینا سکھاتی ہے زندگیسب کو انوکھے خواب دکھاتی ہے زندگی احساس بندگی کا دلاتی ہے زندگیغفلت کی نیند سے یوں جگاتی ہے زندگی دستور ہے یہی کہ سدا اس جہان میںہر شخص کو ہنساتی، رلاتی ہے زندگی سچ ہے کہ بے پناہ محبت کے باوجوداک دن سبھی […]

غزل

غزل: تم رازِ دل بتانا ذرا دیکھ بھال کے

خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان اپنا اسے بنانا ذرا دیکھ بھال کےاس کو گلے لگانا ذرا دیکھ بھال کے بیٹھے لٹیرے حسن کے ہر ایک موڑ پرباہر تمہیں ہے جانا ذرا دیکھ بھال کے دیوار کے بھی کان ہیں معلوم ہے تمہیںتم رازِ دل بتانا ذرا دیکھ بھال کے چرچے تمہارے حسن کے ہر […]

غزل

غزل: کانٹوں کا ہے عروج گلابوں کے آس پاس

نتیجۂ فکر: سید اولاد رسول قدسینیویارک امریکہ جاتے نہیں کبھی جو نصابوں کے آس پاسبے معنی رہ گۓ وہ کتابوں کے آس پاس پھر کیف ہے بہار کے خوابوں کے آس پاسکانٹوں کا ہے عروج گلابوں کے آس پاس مہکا ہوا ہے آج فلک کا یہ گلستاںہے چاندنی قمر کی شہابوں کے آس ہاس مسکان […]

غزل

غزل: ہو گئی میری طرز وفا باغ باغ

نتیجۂ فکر: سید اولاد رسول قدسینیویارک امریکہ سنگ شیشے سے مل کر ہوا باغ باغچشم حیرت ہوئی پر ضیا باغ باغبے رخی کی نظر سے ملا کر نظرہو گئی میری طرز وفا باغ باغ کیسے پہنچے کوئی اس کی تہہ تک بھلااوڑھ کر ہے جو غم کی ردا باغ باغمیں تو غلطاں تھا سوچوں کی […]

غزل

غزل: دیکھو دل کش نظارے صنم

خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان دیکھو دل کش نظارے صنمہیں زمیں پر ستارے صنم نیند کیسے ہمیں آئیگیروبرو ہیں ہمارے صنم اسکے آگے کہیں کیا تمہیںہم غموں کے دولارے صنم آپ نے جب بھی پکارا ہمیںہو گئے ہم تمہارے صنم زندگی، عاشقی، دوستیہیں تمہارے سہارے صنم کیا تمہیں یاد ہے وہ گھڑیوہ جو لمحے […]

غزل

غزل: جان سے بھی ہیں پیارے صنم

خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان اب آپ ہی ہیں ہمارے صنمجان سے بھی ہیں پیارے صنم اور کوئی اِس دل کو بھایا نہیںہو گئے ہم تمہارے صنم آ بھی جاؤ کہ نیند آتی نہیںلگے چھپنے ہیں ستارے صنم کیسے اب جئیں گے بن تیرے ہمیہ تیری الفت کے پیارے صنم لے گئے چھین کے […]

غزل

غزل: غم میں کٹتا ہے سال لفظوں کا

از: سید اولاد رسول قدسینیویارک امریکہ غم میں کٹتا ہے سال لفظوں کاتن ہے بے حد نڈھال لفظوں کا چھوڑئیے تذکرہ مطالب کاسامنے ہے سوال لفظوں کا اس کے چہرے پہ مردنی چھائآیا جب بھی سوال لفظوں کا جس سے گفتار کا جگر تر ہوہے وہ بحرِ نوال لفظوں کا و پڑے پھوٹ پھوٹ کر […]