غزل:تمھارا ذکر جو محفل میں بار بار ہوا

خیال آرائی: ناطق مصباحی تمھارا ذکر جو محفل میں بار بار ہواتمھاری ذات کا فیضان صد ہزار ہوا صبح سے شام تلک چل رہی تھی پروایءجوٹپکابوندتوہر خطہ خوشگوارہوا چلاجوصبح سے فصل بہار کا جھونکاتری زمین کاہرحصہ لالہ زار ہوا ترےدیار میں خونخوار زلزلہ آیاتری زمین کاہرحصہ لالہ زار ہوا سخت سیلاب میں جب کھیتیاں ہوئیں … Read more

غزل: بھوکے مزدور کو رلاتا رہا

نتیجۂ فکر: ناطق مصباحی کامیابی کا گیت گاتا رہابھوکے مزدور کو رلاتا رہا بےکسوں کوجودیکھاسڑکوں پرسرجھکاکروہ مسکراتا رہا اچھی ڈگری ھےروزگار نہیںجوبھی مانگاوہ مارکھاتارہا اچھے اچھوں کو کیا ھےبدحالفتح کا جشن وہ مناتا بینک جولوٹااماں اسکوملیپوری جنتاکووہ ستاتارہا اپنی سازش سے بندکی تعلیممحنتی بچہ بھی آوارارہا جوبھی حامی ہے اس کا اے ناطقتھپکیاں دے کےوہ … Read more

غزل: جس کے وعدہ کا اعتبار نہیں

خیال آرائی: ناطق مصباحی جس کے وعدہ کا اعتبار نہیںاس کے اندر کوئی وقار نہیں ہوٹلوں میں وہ ٹھاٹ کرتا رہاوہ کسی کابھی وفادار نہیں کامیابی کا ذکر خود کرتاپت جھری ہے کہیں بہار نہیں اس کی نادانی سب کی نظروں میںاہل دانش میں انتشار نہیں جھوٹے وعدوں سے بن گیا قایداچھےلوگوں میں وہ شمار … Read more

غزل: ظلمت شب میں وہ بےاماں ہوگیا

خیال ناطق ظلمت شب میں وہ بےاماں ہوگیاصبح کی پوپھوٹی شادماں ہوگیا بس تجربات میں زندگی کٹ گئیقیمتی وقت بھی رایگاں ہوگیا خدمت خلق جب اسکا شیوہ رہاقوم وملت کاوہ ساءباں ہوگیا وہ مکاں جو زمانہ سے منحوس تھااسکے آتے ہی وہ کہکشاں ہوگیا جوحقیقت کوپامال کرتارہاسامنے جب ہوابےزباں ہوگیا باعث کفردنیامیں مردود تھاکلمہ پڑھتےہی … Read more

غزل: دل سے آئی صدا تعجب ہے

نتیجہ فکر: ناطق مصاحی دل سےآئی صدا تعجب ہےدرد دل میں ہوا تعجب ہے گندے تالاب میں نہاتا رہاصاف ستھرا ہوا تعجب ہے صبح سے شام تلک کھاتا رہاروزہ بھی ہوگیا تعجب ہے بے وضو جب رہا زمانہ سےخوب سجدہ کیا تعجب ہے پاکی ناپاکی کی تمیز نہیںپاک باطن ہوا تعجب ہے مانگتا پھر رہابھےبسڑکوں … Read more

منقبت: علی شیر خدا مشکل کشا ہیں

نتیجۂ فکر: ناطق مصباحی غریبوں کے لئے غم آشنا ہیںعلی شیر خدا مشکل کشا ہیں حدیث وفقہ میں انکی امامتمفسر کیلئے وہ رہنما ھیں عبادت روزوشب انکاھےشیوہیقیناً وہ امام لاتقیاء ھیں طریقت انکے درسےجاری ساریسلاسل کے وہی تو مقتدی ھیں رسول اللہ کے بستر پہ سوناشب ہجرت نبی پہ وہ فداھیں بدد خندق میں انکی … Read more

جیل نامہ

خیال ناطق عابد شب گزار جیل میں ہےرحمت کردگار جیل میں ہے بےگناہی کی سزا پرخوش ہےسیکڑوں کا وقار جیل میں ہے خانقاہوں میں آج کچھ بھی نہیںخانقاہی بہار جیل میں ہے دن میں روزہ نماز کاجلوہدیکھو تقوی شعار جیل میں ہے شب میں ذکر خفی کی مستی ہےذکر رب کا خمار جیل میں ہے … Read more

غزل:پژ مردہ دل کوڈھنڈی ہوا کیوں نہیں دیتے

خیال آرائی: ناطق مصباحی پژ مردہ دل کوڈھنڈی ہوا کیوں نہیں دیتےمجبور کا جو حق ہے دلا کیوں نہیں دیتے دشمن کاپسربھوک سے روتاھے سڑک پرغیرت زدو تم اسکو کھلاکیوں نہیں دیتے نفرت کی زمیں جس میں اگےزہرہلاہلدہقان اس میں آگ لگا لگاکیوں نہیں دیتے شیطان ترےملک کوبرباد کرےھےعامل کے فتیلہ سے جلاکیوں نہیں دیتے … Read more

غزل: اب بہاروں کی کوئی شام نہیں

خیال آرائی: ناطق مصباحی جب ترے دل میں احترام نہیںاس کی محفل میں تراکام نہیں مسکرا کر ہی ظلم ڈھاتے ہوظالموں میں تمہارانام نہیں مست کرتے ہواپنی نظروں سےاپنے ساقی کاکویءجام نہیں صبح نو ہےمسرتوں کے ناماب بہاروں کی کوئی شام نہیں اچھے اچھوں میں بہت اچھےہوجبکہ اچھوں میں ترانام نہیں اپنے قاتل کو سزاکیوں … Read more