نظم: امریکہ میں نئے دور کے آغاز سے متاثر "زرد باب"

نتیجۂ فکر: شیبا  کوثر ( آرہ ،بہار )انڈیا۔۔۔۔۔۔۔۔  .  .  .  .  . . ۔۔۔۔۔۔۔ایک منظر !خوشیوں بھرا منظرپل پل آنکھوں میں بھرا منظرتاریخ پھر سے بدل رہی تھیظلم کی دیوار ڈھل رہی تھیسورج طوع ہو رہا تھا نیااور دنیا بھر سے بدل رہی تھی !!گویا ہر طرف ایک شور تھاجو گزر گیا وہ شہ زور … Read more

یہ عظمتیں یہ رفعتیں یہ شان تم سے ہے

میرے والدین کے نام جن کی دعاوں کو اپنی زندگی کا سائبان بنا کر میں نے زندگی جینے کا شعور سیکھااللہ ہم سب کے والدین کا سایہ ہم پر دراز فرمائے۔ آمین ثم آمین نتیجۂ فکر: محمد شاہ نواز امجدیدھولیہ مہاراشٹرفون نمبر: 9044934341 یہ عظمتیں یہ رفعتیں یہ شان تم سے ہےمیری زندگی کی خوشیاں … Read more

آزاد نظم: دشمن تو خوش ہوتا رہا ہے

از قلم: رمشا یاسین (کراچی، پاکستان) دھوپ ہے کہ ڈھلتی نہیں۔آسماں مگرروتا رہا ہے۔موت کے گھاٹ اپنے ہی اترے ہیں۔دشمن تو خوش ہوتا رہا ہے۔معصوم کے سینے پر گولیاں اڑائی ہیں۔دردندوں کو تم نے آزاد کیا ہے۔بے گناہ نے کاٹی ہے ناحق سزا۔گناہ گار کو تم نے رہا کیا ہے۔اپنوں کی جانوں کے دشمن ہو … Read more

جمہوریت کی لاش

نتیجۂ فکر: نیاز جے راج پوری علیگؔ، اعظم گڑھ عداوت ، بُغض و نفرت کی جو آندھی رُک نہیں پاتیاُسی آندھی نے خاک و خوں کی منظر دِکھائے ہیںگلی کُوچوں میں بہتا خون ، زخمی لوگ اور لاشیںاُسی آندھی نے یہ سب اور جلتے گھر دِکھائے ہیں کہیں فِرقہ پرستوں نے کِیا ہے قتل لوگوں … Read more

اے کسانو دیش کی تم آن وبان وشان ہو

نتیجۂ فکر: صادق طاہر قاسمی ندوی کبیر نگریریاض سعودی عرب اے کسانو دیش کی تم آن وبان وشان ہواے کسانوں دیش کی تم جان ہو پہچان ہو یہ ہری کھیتی، ہرے پودے، ہرے رنگ چمنتم سے ہیں آباد یہ کہسار یہ کوہ ودمنخوں پسینے سے بہت سینچا ہے یہ صحن چمنتم اگر آباد ہو، آباد … Read more

نظم: سال نیا ہے، حال وہی ہے

نتیجۂ فکر: سلمان رضا فریدی مصباحی، مسقط عمان دنیا کی ہر چال وہی ہےسال نیا ہے ، حال وہی ہے زخمی دل اور لب پر آہیںروتی ہیں دنیا کی آنکھیںآفت اور جَنجال وہی ہےسال نیا ہے حال وہی ہے شمع جلی ، پروانہ مَچلاکوئ سوز و ساز نہ بدلارُت ہے وہی ، سُر تال وہی … Read more

ذکر و فکر: آمدِ سالِ نَو کی خوشی ہر طرف

نتیجۂ فکر: نیاز جے راج پوری، اعظم گڑھ فِکرِ سالِ گُزشتہ کِسی کو نہیں، آمدِ سالِ نَو کی خوشی ہر طرفشور ہے ہر طرف سالِ نَو آ گیا، مچ گئی جیسے اِک دُھوم سی ہر طرف سال گُزرا ہُوا یُوں ہی آیا تھا جب، ایسا ہی شور تھا، ایسا ہی جشن تھاچھوڑ کر جو گیا … Read more