اسانغنی مشتاق رفیقی، وانم باڑی تمھارے سر کی تُرکی ٹوپیاں وہ کیا ہوئیں باشابڑے رُومال، اُجلی لُنگیاں وہ کیا ہوئیں باشاچبوترے جو کبھی پہچان تھے اچھے مکانوں کےبڑے لوگوں کی اُجلی داڑھیاں وہ کیا ہوئیں باشاوہ اُجلی چادریں اور کالے بُرقعے سیدھے سادے سےاور اُن میں سمٹی سمٹی بیبیاں وہ کیا ہوئیں باشابڑوں سے بات […]
غزل
غزلیں

