غزل: نظر جو نظر سے ملے تو اچھا ہے
خیلا آرائی: فرید عالم اشرفی فریدی تمہارے رخ سے یہ پردہ ہٹے تو اچھا ہےاے جاں نظر جو نظر سے ملے تو اچھا ہے ہمارے ساتھ صنم تو چلے تو اچھا ہےچراغ عشق جو دل میں جلے تو اچھا ہے شراب عشق پلاتے ہیں آنکھوں سے ہمدمیہی نظارہ نظر میں رہے تو اچھا ہے تو … Read more