گل گلشن
غزل: خود ہی خود کو ستاتی ہوں
خیال آرائی: گل گلشن، ممبئی کبھی خود کو بناتی ہوں کبھی پھر ٹوٹ جاتی ہوںمیرے دل کی جو حالت ہے وہ میں رب کو سناتی ہوں وہ جو ہر شۓ میں شامل ہے وہ ہے ہر راز سے واقفمیں اس کو یاد کرتی ہوں تو ہر غم بھول جاتی ہوں سمجھ میں کچھ نہیں آتا … Read more
خودکشی مسائل کا حل نہیں
تحریر: گل گلشن، ممبئی چند روز قبل عائشہ نامی لڑکی نے خودکشی کر لی۔اس طرح کے حادثے ہر انسان کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔اس خودکشی کے پیچھے دو باتیں ہیں۔بے شک کچھ وجوہات رہی ہوں گی ۔لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہر مسلمان موت کے بعد کی زندگی سے واقف ہے اور ہم کبھی بھی … Read more
افسانہ: آنسوں
افسانہ نگار: گل گلشن، ممبئی آنسوں بنیادی طور پر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک غم کے آنسوں اور دوسرے خوشی کے آنسوں۔ پانی کی طرح نظر آنے والے یہ آنسوں مختلف جذبات اور احساسات کے ترجمان ہوتے ہیں۔کبھی اپنے پیاروں کے روٹھ جانے پر یہ آنسوں بھتے ہیں اور کبھی کسی اپنے سے ایک عرصے … Read more
غزل: غم زندگی تیرا شکریہ، مجھے تو نے مجھ سے ملا دیا
خیال آرائی: گل گلشن، ممبئی میں تھی رنجشوں میں گم شدہ،تو نے مجھ کو اپنا پتہ دیاغم زندگی تیرا شکریہ،مجھے تو نے مجھ سے ملا دیا میں نے چاہا تھا تجھے بھولنا،تجھے بھولنا بھی محال تھاتجھے بھولنے کی چاہ میں،میں نے خود ہی خود کو بھلا دیا بڑی شوخیاں بڑی رونقیں تیرے الفتوں کے نگر … Read more
غزل: ہم ایک دوسرے سے محبت جتایئں
خیال آرائی: گل گلشن، ممبئی ہمیں تم ستاؤ تمہیں ہم ستایئںہم ایک دوسرے سے محبت جتایئں اس اسرار الفت کو بس ہم ہی جانیںکبھی تم جو روٹھو تمہیں ہم منایئں یہ نفرت زدہ جھوٹی دنیا سے نکلیںہم اپنی الگ ایک جنت بنایئں یہ شکوے شکایت سبھی کچھ بھلا کرخلوص و وفا کا ہنڈولہ بنایئں ہے … Read more
افسانہ: کھوکھلہ معاشرہ
افسانہ نگار: گل گلشن، ممبئی لیپ ٹاپ سامنے ٹیبل پر کھلا ہوا تھا۔پاس ہی چشمہ رکھا ہوا تھا۔قہوہ کپ میں رکھا ٹھنڈا ہو چکا تھا۔لیکن میری نذر اپنی گود میں رکھی ڈائری پر ہی تھی۔میں سمجھ نہیں پا رہا کہ یہ ڈائری زیادہ تنہا ہے یا میں خود۔سوچوں کا طوفان تھا اور سرا کوئی مل … Read more
غزل: ہم تو صحرا ہی میں یوں بھٹکتے رہے
خیال آرائی: گل گلشنممبئی جب سمندر ملا تشنگی نہ رہیہم تو صحرا ہی میں یوں بھٹکتے رہے دل نے ہم سے کہا تم جفا کار ہوہم ہی نادان تھے تم پہ مرتے رہے حسن اب غیر کا ان کو یوں بھا گیاہم تو ان کے لئے ہی سنورتے رہے چھوڑنا تو انھیں ہم پہ دشوار … Read more
افسانہ: اصل خوشی
افسانہ نگار: گل گلشن، ممبئی روز کے کاموں سے فراغت حاصل کرکے میں کمرے میں آ کر بیٹھی ہی تھی کہ دروازے کی گھنٹی سنائی دی ۔غصہ تو بہت آیا کہ ابھی ذرا فرصت ہوئی تھی اور اب نہ جانے کون آ دھمکا۔خیر اٹھی اور دروازہ کھولا تو ایک لڑکی کچھ ٢٥ یا ٢٦ سال … Read more
غزل: ورنہ رشتے سبھی کاغذی سے رہے
خیال آرائی: گل گلشن، ممبئی ہے بڑا تو وہی عاجزی سے رہےسارے شکوے بھلا کر خوشی سے رہے موت جب آئے گی تنہا لے جاۓ گیہم یہی سوچ کر سادگی سے رہے جب تلک ان کو ہم سے یوں مطلب رہاتب تلک مہرباں چاشنی سے رہے تیرے ہر ایک ستم کو گنوارا کیاہم نے کچھ … Read more