منقبت: یارفاعی یہ غم ہو تو کیا کروں
نتیجۂ فکر: سید شہباز اصدق دل بسوئے صنم ہو تو میں کیا کروںسر مرا در پہ خم ہو تو میں کیا کروں سوزِ دل چشمِ نم ہو تو میں کیا کروںیا رفاعی یہ غم ہو تو میں کیا کروں یا رفاعی رفاعی رہے زیرِ لبمجھ پہ ان کا کرم ہو تو میں کیا کروں ہے … Read more