خیال آرائی : حافظ فیضان علی فیضان اپنی قسمت کا کسی سے کوئی شکوہ نہ کریںگھر کی باتوں کا بھی باہر کوئی چرچہ نہ کریں چاہے مرنا پڑے سو بار تمہیں جی جی کراپنے ایمان کا ہر گز کبھی سودا نہ کریں ہوگی جتنی بھی مقدر میں چلی آئے گیآپ دنیا کا کبھی بھی یہاں […]
غزل
غزلیں
غزل : مرا ساقی بھی کتنا باہنر ہے
نتیجۂ فکر : ناطق مصباحی ہراک ساعت رقیبوں کاگزرھےمرادلبربھی کتنادیدہ ورھے مرےگلشن میں بلبل چہچہائیںنرالی شاخ ھےگل ھےثمرھے ہمارہ میکدہ سب سے نرالامراساقی بھی کتناباہنرھے اسی کے نام سے صدقہ ھےجاریوہی عشاق کا جان خمر ھے جدائی سے ہواجب مرغ بسملکہا عامل نے جادو یانظر ھے معطر ہیں ہوائیں چاروں جانبکہا ناطق نے اسکا رہگزر […]

