غزل: پڑی تھی پاؤں میں زنجیر کوئی
متاع درد کی تفسیر کوئیذرا پڑھ لے مری تحریر کوئی ستم یہ ہے ہماری کیفیت پرکہیں ملتا نہیں دلگیر کوئی مجھے پرواز کا جزبہ تھا لیکنپڑی تھی پاؤں میں زنجیر کوئی میں جس دن سے موثر ہو گیا ہوںمری کرتا نہیں تسخیر کوئیl مری آنکھوں سے آنسو بہ رہے ہیںسنبھالے آ کے یہ جاگیر کوئی … Read more