غزل: جان پر ہے وبال لفظوں کا

نتیجۂ فکر: سید اولاد رسول قدسی مصباحینیویارک امریکہ دل کے صفحوں میں جال لفظوں کاجان پر ہے وبال لفظوں کا کیسے محفوظ ہوں اصولِ حروفبڑھ رہا ہے ضلال لفظوں کا الجھے رہتے ہیں سب عبارت میںہے عجب یہ کمال لفظوں کا حرف تو حرف کٹ گۓ نقطےاللہ اللہ جلال لفظوں کا اب قیامت زباں پہ … Read more

تمہارے نام کے چھ حروف

نتیجۂ فکر: ماریہ نور کائنات بناتے  ستہ حروف سے حسین تر ٹھہرے "ا” سے سے ایک ناقابل فراموش لمحہ روز اول جب میری تم سے بات ہوئی "م” سے مانگیں میں نے جتنی بھی منتیں مرادیں تم ہرایک کا مرکز ٹھہرے "ت” سے تمہاری تقدیرکا آسما  تا عمر تاروں سےبھرا رہے "ی”سے یا الہی ہیں … Read more

دیکھئے کیا گُل کِھلاتا ہے اکہتّرواں چراغ

نتیجۂ فکر: نیاز جے راج پوری علیگؔ، اعظم گڑھ اپنی خود مُختاری کی خوشیاں منانے کے لئےفخر سے ستّر چراغ اب تک جلائے جا چُکےبیشتر محروم رنگوں سے رہے اور رہ گئےآج کل پرسوں کے جو خاکے بنائے جا چُکے المیہ اِس کو کہا جائے یا بیماری کوئیذہن و دِل کے کالوں کو اِس روشنی … Read more

غزل: نیا ہے سال سب خوشیاں منائیں

خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان نیا ہے سال سب خوشیاں منائیںدِلوں سے اپنے سب نفرت مٹائیں دُعائیں سب ہماری رنگ لائیںوَطن کشمیر کو اپنا بنائیں نہ گھبرائیں کبھی بھی مشکلوں سےدیا امید کا مل کے جلائیں ختم دُنیا سے ہو جائے کروناجو بیتا ہم پہ اُس کو بھول جائیں حقیقی زندگی کو پانا ہے … Read more

غزل: بجائے سننے کے اُلٹا جواب دیتا ہے

بجائے سننے کے اُلٹا جواب دیتا ہےکہ اب تو ہر کوئی سیدھا جواب دیتا ہے برا نہ مان کسی کی نفاقِ رائے کاہر ایک شخص بس اپنا جواب دیتا ہے ہم آدمی تو چلو صرف آدمی ہیں مگرخدا بھی اکثر ادھورا جواب دیتا ہے تمہیں خبر نہیں تب دل پہ کیا گزرتی ہےجب ایک باپ … Read more

غزل: لقمان کی حکمت کا مزہ کیوں نہیں لیتے

نتیجۂ فکر: سید اولاد رسول قدسی مصباحینیویارک امریکہ لقمان کی حکمت کا مزہ کیوں نہیں لیتےآلام میں راحت کا مزہ کیوں نہیں لیتے تلخی میں طبیت کی تغیر کے کھلیں پھولنیموں سے حلاوت کا مزہ کیوں نہیں لیتے افکار کی سنگین لڑائی کی زمیں پرلفظوں کی شہادت کا مزہ کیوں نہیں لیتے تم طائر تخئیل … Read more

غزل: میرا بھی نام ہے جوانوں میں

خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان میرا بھی نام ہے جوانوں میںرہتا ہوں گُم سدا خیالوں میں جب کبھی اُس سے میری ہوگی باترت بدل جائے گی سوالوں میں آئے دن اُس سے ملنا مُشکل ہےاِس لئے اب وہ آتی خوابوں میں لِکھ دُوں میں اک کتاب اُس کے نامتاکہ ہو چرچا میرا یاروں میں … Read more

غزل: جب بھی آئیں گے وہ خیالوں میں

خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان جب بھی آئیں گے وہ خیالوں میںاشک آتے ہیں میری آنکھوں میں چاندنی رات کے اجالوں میںبات کرتے ہیں وہ مثالوں میں یاد محبوب کی جب آتی ہےزلزلے آتے ہیں خیالوں میں عکس اُنکا ہی بس جھلکتا ہےمیری تحریر کے حوالوں میں جب تیرا تذکرہ ہو محفلِ میںرت بدل … Read more

ہیپی سٹارٹنگ

ازقلم: لاریب حسنین چلے آؤ کہاکتیس دسمبر سے قبل مل بیٹھیںپرانے غموں پر رو دیںنئے خواب سجا لیںگلے شکوے دور کرنے کی اک کوشش اور سہیدلوں کو محبت کی ڈور سے باندھ لیتے ہیںماضی کی تاریک یادوں کو بھلا کرآنے والی خوشیوں کے ورق میں رنگ بھرتے ہیںاک دوجے کی کوتاہیوں کو معاف کر کےگلے … Read more

عزم نو: تین پینسٹھ دِنوں کا ختم قِصّہ ہو گیا

نتیجۂ فکر: نیاز جے راج پوری علیگ، اعظم گڑھ ہیں کُھلی آنکھیں کِسی کی اور کوئی سو گیاتین پینسٹھ دِنوں کا ختم قِصّہ ہو گیا لالہ زارِ زیست کا اِک پُھول پِھر مُرچھا گیاشاخِ ذہن و دِل کو چُھو کر ایک جھونکا سا گیادے گیا کچھ اور اپنے ساتھ کچھ لیتا گیاگُزرے سالوں کی طرح … Read more