غزل: دلکشی، بے رخی نے مار دیا
خیال آرائی: فرید عالم اشرفی فریدی تیری اک سادگی نے مارا ہےدلکشی بے رخی نے مارا ہے حادثاتِ جہاں نہ فرقت نےبس تیری برہمی نے ماراہے جسکی چاہت میں بن گیامجنوںمجھکو اس عاشقی نےماراہے مجھ میں طاقت نہیں ہےاٹھنےکیاتــنا اب لاغــری نــے مارا ہے تم کو ماراتھا زلفِ لیلیٰ نےکہتے ہو بے بسی نے مارا … Read more