غزل

غزل: محبت کا میرے ہمدم کوئی سسٹم نہیں ہوتا

نتیجۂ فکر: محمد اظہر شمشاد کوئی مظلوم اور کوئی یہاں ظالم نہیں ہوتامحبت کا میرے ہمدم کوئی سسٹم نہیں ہوتا محبت کی نہیں جاتی سخن یہ بالیقیں حق ہےمحبت ہو ہی جاتی ہے کوئی عازم نہیں ہوتا سمجھتے ہیں مجھے اوروں سا عاشق حسن کا اپنےہما کے مثل ہوں مجھ سا اب اے جاناں نہیں […]

غزل

غزل: بھلا کیسے گرفتارِ محبت ہوگئے ہم تم

نتیجۂ فکر: ذکی طارق بارہ بنکویسعادت گنج، بارہ بنکی، یو۔پی۔ بھارت کہو، اک دوسرے کی کب ضرورت ہو گئے ہم تمبھلا کیسے گرفتارِ محبت ہوگئے ہم تم انا،عدل،آتما،سچ سب کا سودا یار کر بیٹھےستم ہے اس طرح سے نذرِ غربت ہوگئے ہم تم محبت کے مقدس محترم ماحول میں رہ کرذرا دیکھو تو کتنے خوبصورت […]

غزل

غزل: بحث کا کچھ نہیں جس کو سلیقہ

بحث کاجو بھی ہے بہتر طریقہنہیں بحاث کواس کا سلیقہ بحث میں صغریٰ کبریٰ حداوسطنہیں معلوم ھے اس کا لطیفہ جہالت قابلیت ہوگئ ہےزباں سے جو جلاتا ہےفتیلہ اگرچہ اپنی محفل میں ھے خوشتربحث کی خو نہیں اس میں قلیلہ ہوا جاہل بحث کی معرفت سےیقیناً جاہلوں کا چھل چھبیلہ مخاطب کی نہ سننا قابلیتیہی […]

غزل گوشہ خواتین

غزل: اور تنہا ہو گئی ہوں نا

خیال آرائی: خوشبو پروین قریشی، حیدرآباد زبانِ حال میں ماضی کا قصہ ہو گئی ہوں نامیں اس کے ساتھ رہ کر اور تنہا ہو گئی ہوں نا مسلسل خشک دریا سے لگی چلتی رہی شایدتو اب لگتا ہے میں مانوسِ صحرا ہو گئی ہوں نا گھنے بادل تو ہیں لیکن نہیں آثار بارش کےعجب سا […]

غزل

غزل: کر لوں سب کے دل میں گھر ایسی مناجاتیں سکھا

نتیجۂ فکر: ذکی طارق بارہ بنکویسعادت گنج بارہ بنکی، یو۔پی۔ بھارت جو سکھانا ہے تو پھر اس ڈھنگ کی باتیں سکھاکر لوں سب کے دل میں گھر ایسی مناجاتیں سکھا مجھ کو تنہا کرنے سے پہلے اے میرے ہم نفسکیسے کاٹوں گا میں تیرے ہجر کی راتیں سکھا دور سے دیدار کی بس پوری ہونگی […]

غزل گوشہ خواتین

نظم: کتنا اچھا لگتا ہے

نتیجۂ فکر: گل گلشن، ممبئی چاند ہے تنہا تنہا سارات بھی کتنی اکیلی ہےرات کی تاریکی میں کھو جاناکتنا اچھا لگتا ہےمیں بھی چند خواب سمیٹے رات کی گود میں آ بیٹھی ہوںجاگتی آنکھوں میں سپنے سموناکتنا اچھا لگتا ہےتنہا رات اور تنہا میںدونوں باتیں کرتے ہیںیوں تنہائی میں باتیں کرناکتنا اچھا لگتا ہےتاروں کی […]

غزل

غزل: ہے ردیف اور قافیہ ہی نہیں

خیال آرائی: اشتیاق احمد شوق، ممبئی جام الفت کا جو پیا ہی نہیںزندگی اس نے پھر جیا ہی نہیں لاکھ تکلیف جھیلتا میں رہانام تیرا مگر لیا ہی نہیں جلوۂ یار تھا میسر، پرتیرگی میں کوئی، دِیا ہی نہیں نقشِ الفت مٹا دیا دل سےپیار کی دل میں اب ضیا ہی نہیں اس زمیں کے […]

غزل گوشہ خواتین

غزل: میری نیندیں چرا گئی آنکھیں

خیال آرائی: خوشنما حیات ایڈوکیٹبلند شہر، اترپردیش خواب تیرے دکھا گئی آنکھیںمیری نیندیں چرا گئی آنکھیں عشق میں کیسے جیتے ہیں دیکھوسارے لمحے بتا گئی آنکھیں اور باتیں سنا گئی آنکھیںیار سپنے دکھا گئی آنکھیں عشق کرنا سکھا گئی آنکھیںکتنے جلوے دکھا گئی آنکھیں مجھ کو ہنسنا سکھا گئی آنکھیںغم بھی کتنے چھپا گئی آنکھیں

غزل

غزل: شہر میں آج تنہا جارہے ہیں

خیال آرائی: اشتیاق احمد شوقؔ، ممبئی محبت کی سزا ہم پا رہے ہیںخودی پرظلم ڈھائےجارہےہیں نہیں ملتی محبت بن مشقتیہی دستور چلتے آرہے ہیں لگارہتا تھاجن کے ہرسومیلہشہر میں آج تنہا جارہے ہیں نیاپھرسے بنالیں گے نشیمنکبھی سے دل کویہ سمجھا رہے ہیں محبت چاردن کی چاندنی ہےنہ جانے لوگ کیوں اِترارہےہیں کھڑاہےمنتظرکیوں شوق اب […]

غزل

غزل: یہی میرا وطن ھندوستان ہے

نتیجۂ فکر: ناطق مصباحی حضرت ھندکی ایمانی زمیںحضرت شیث کی عرفانی زمیںخواجہ ھندکی روحانی زمیںیہی تو رہبروں کاآشیاں ہےیہی میرا وطن ھندوستان ہے گلاب ونسترن کی اچھی خوشبوچمیلی یاسمن کی بھنی خوشبومشام جاں میں ہے چمپاکی خوشبومعطر ہی معطر گلستاں ہےیہی میرا وطن ھندوستان ہے اخوت آج دنیا میں ہے قائممحبت آج دنیا میں ہے […]