غزل: پردہ یہ ہٹا لو تم اور زخمِ جگر دیکھو

بجلی یوں نگاہوں سے گرنے کا اثر دیکھوتصویر مرے دل کی یا چاک جگر دیکھو بوسیدہ کفن میرا لپٹا ہے جگر سے ابپردہ یہ ہٹا لو تم اور زخمِ جگر دیکھو بے تابیوں نے جینا دشوار بہت کر دیبجھتا سا دیا ہوں میں بس ایک نظر دیکھو بے خوف تو کرتے ہو دیدار جہاں کا … Read more

غزل: اے طالبِ شمیم وہ پُروائیاں پرکھ

جب دھوپ اُ گی ہوٸی ہو تو پرچھائیاں پرکھچہرہ نہ پڑھ خیال کی سچائیاں پرکھ جو سانس سانس درد سے مہکاٸیں جسم کواے طالبِ شمیم وہ پروائیاں پرکھ مانا نڈھال کر گٸی ساون تری پھوارتحریک دے رہی ہیں جو انگڑائیاں پرکھ ان سے ہی شش جہات میں ہیں میری شہرتیںاس زاویے سے تو مری رسوائیاں … Read more

غزل: تم بھی اُلجھی ہوئی لڑی،،ہو کیا

از قلم: دلشاد دل سکندر پوری تم بھی اُلجھی ہوئی لڑی،،ہو کیاسچ کہو میری زندگی،، ہو کیا ہاتھ کنپتے ہیں تم کو چھونے سےتم ابھی کمسنی کلی ہو کیا بھید کھلتے نہیں ترے مجھ پرمیر و غالب کی شاعری ہو کیا دیکھتا ہی نہیں کوئی تم کومیری خاطر ہی تم بنی ہو کیا یہ مجھے … Read more

غزل: لیکن اس ترکِ محبت کا بھروسا بھی نہیں

سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیںلیکن اس ترکِ محبت کا بھروسا بھی نہیں دل کی گنتی نہ یگانوں میں نہ بیگانوں میںلیکن اس جلوہ گہہ ناز سے اٹھتا بھی نہیں مہربانی کو محبت نہیں کہتے اے دوستآہ اب مجھ سے تری رنجش بے جا بھی نہیں ایک مدت سے تری یاد … Read more

غزل: منزل تلاش کر

جذبے سے تو جنوں میں منزل تلاش کرآثار ہو طوفاں کے تو ساحل تلاش کر دل کو اچھالتے ہوئے پھرتے ہیں سب یہاںدل دے کے دل جو دے دے تجھے وہ دل تلاش کر جس میں تجھے نوازے محبت سے سارے لوگایسی کوئی زمانے میں محفل تلاش کر آئے ہیں نوجوانی میں ایسے خیال بھیآنکھوں … Read more

غزل: مدتوں تک کوئی بہلول رہا ہے مجھ میں

از قلم.. دلشاد دل سکندر پوری زہر ہوں اور شہد گھول رہا ہے مجھ میںکون ہے تیری طرح بول رہا ہے مجھ میں اب محبت نہ کروں گا یہ قسم کھائ تھیبند دروازہ کوئی کھول رہا ہے مجھ میں خود کو اپنے ہی میں قدموں پہ جھکا لیتا ہوںایک ہی فن ہے جو انمول رہا … Read more

یہ آئی بہار عید کے دن

ہے کانپور میں یہ آئی بہار عید کے دنخوشی سے چہروں پہ آیا نکھار عید کے دنکہیں پہ کھیر کہیں پہ سویاں اور برفییہ میٹھا کھائینگے ہم بار بار عید کے دنچلو جو روٹھ گیا ہے اسے منائیں ہمخدا نے دے دیا یہ اختیار عید کے دنیہ پورا شہر ہے خوشیوں میں آج ڈوبا ہوایہ … Read more

غزل: دیکھا جو اس نے پیار سے میں تو سنور گئی

نتیجہ فکر: گل گلشن، ممبئی بھٹکی ہوئی نگاہ تھی مجھ پر ٹھہر گئیدیکھا جو اس نے پیار سے میں تو سنور گئی تیرے لبوں سے سن کے صنم نام غیر کازندہ ہے جسم آج مگر روح مر گئی بھوکے ہیں بچے عورتیں بے آبرو ہوئیہر سمت ہیں اداسیاں غیرت بھی مر گئی کھلنا بکھرنا پھولوں … Read more

غزل: وہ ترستا پھر رہا ہے ایک اک دانے کو آج

ازقلم: اسانغنی مشتاق رفیقی جب کبھی کرتا ہوں میں، ظلم و ستم پر احتجاجلوگ کہتے ہیں رفیقیؔ کو نہیں کچھ کام کاج سچ کو سچ ہی بولتا ہوں، جھوٹ میں کہتا نہیںحیف پاگل کہہ رہا ہے اُس پہ یہ میرا سماج شہر کا حاکم ہمیشہ مجھ سے رہتا ہے خفامیں کبھی دیتا نہیں اُس کی … Read more

غزل: محبت سے ملو تم ہر کسی سے

ازقلم: محمد تحسین رضا قادریقادری منزل محمد نگر گنگا گھاٹ اناؤ محبت سے ملو تم ہر کسی سےتمہیں قربت ملے گی بندگی سے ڈرے کب ہے کسی سے بے بسی سےنہ عاشق باز آئے عاشقی سے ہوئے ہیں کام بھی کچھ دشمنی سےنہ رکھ امید کوئی دوستی سے ہزاروں درد و غم ہم سہتے سہتےپریشاں … Read more