غزل: وہ ترستا پھر رہا ہے ایک اک دانے کو آج
ازقلم: اسانغنی مشتاق رفیقی جب کبھی کرتا ہوں میں، ظلم و ستم پر احتجاجلوگ کہتے ہیں رفیقیؔ کو نہیں کچھ کام کاج سچ کو سچ ہی بولتا ہوں، جھوٹ میں کہتا نہیںحیف پاگل کہہ رہا ہے اُس پہ یہ میرا سماج شہر کا حاکم ہمیشہ مجھ سے رہتا ہے خفامیں کبھی دیتا نہیں اُس کی … Read more